رسائی کے لنکس

علاقے کے بیشتر مکانات خالی ہوگئے ہیں۔۔۔جہاں کچھ لوگ موجود ہیں بھی تو وہ گھروں کی چار دیواری تک محصور ہوکررہ گئے ہیں۔ یہ پہلے منظر سے یکسر مختلف ہے۔

کل کا منظر
کندھے سے چھلتا کندھا، سینکڑوں لوگوں کا شور، تنگ و تاریک گلیوں کے باوجود آتی جاتی موٹرسا ئیکلوں، ہارن، رکشا اور ٹیکسی کے انجن کی بے ہنگم آوازیں، مخصوص لہجے میں زور زور سے ایک دوسرے سے باتیں کرتے لوگ، ہنسی اور قہقہے۔۔یہ کراچی کے علاقے لیاری کا گہماگہمی سے بھرا ایک منظر ہے ۔۔۔کچھ دنوں پرانا۔۔۔۔۔اور جو نمائندے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔
آج کا منظر
ایک دوسرے سے راز داری برتتے لوگ ، خوف زدہ، چہرے پر گہری خاموشی، رنج میں ڈوبا لہجہ۔۔۔سب کو کوئی نہ کوئی پریشانی ہے۔ کوئی دس دن سے کام دھندے پر نہیں گیا تو کوئی چار پانچ روز سے گھر میں بے کار بیٹھا ہے۔ روٹی روزی کی فکر۔۔امن و امان کا مسئلہ۔۔۔شام ہونے کا خوف۔۔بچوں کا اندھا دھندفائرنگ اور دھماکوں سے ڈرجانا۔۔۔جوگلیاں کل تک سینکڑوں لوگوں سے بھری پڑی تھیں وہ آج ویران صحرا کی طرح سنسان ہیں۔۔۔
علاقے کے بیشتر مکانات خالی ہوگئے ہیں۔۔۔جہاں کچھ لوگ موجود ہیں بھی تو وہ گھروں کی چار دیواری تک محصور ہوکررہ گئے ہیں۔ یہ پہلے منظر سے یکسر مختلف ہے۔ یہ منظر آنے والے دنوں میں ہوسکتا ہے مزید ویرانی کا باعث بنے کیوں کہ لیاری سے لوگ جوق در جوق اندرون سندھ نقل مکانی کررہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایک ہزار سے زائد افراد نے ضلع ٹھٹھہ کے گاوٴں ہاشم میندرومیں پناہ لی تھی ۔ انہیں یقین ہوچلا تھا کہ اگر وہ مزید کچھ دن لیاری رہے تو گینگ وار کی نظر ہوجائیں گے ۔ لیاری میں مسلسل ایک ہفتے تک دوگروہوں کے درمیان گینگ وار چلی جس کا نقصان غیرجانبدار لوگوں کو بھی اٹھنا پڑا۔
نقل مکانی کرنے والے کچھی برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھی رابطہ کمیٹی (کے آر سی)اور لیاری میں موجود گینگسٹرزکی آپسی جنگ زور کا معمول بن گئی ہے۔ گینگسٹرزنے علاقے کے مکانات ، مدارس، اسکولوں اور دیگر عمارتوں پر قبضہ کرکے انہیں اپنے اڈوں میں بدلنا شروع کردیا ہے۔ حالات اس قدر برتر ہیں کہ پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے بھی اس گینگ وار کو ہمیشہ کے لئے ختم کرانے سے قاصر ہیں ۔
پیر کے روز صدر آصف علی زرداری نے لیاری میں امن وامان کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی طلب کیا جس میں تمام صورتحال پرغور کیا گیا لیکن بات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کلری اور چاکی واڑہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کرنے سے آگے نہ بڑھ پائی۔
چیل چوک، آٹھ چوک، بغدادی، موسیٰ لین، حاجی بچل روڈ، آگرہ تاج کالونی، مچھر کالونی اور دیگر درجنوں علاقے تجارتی ہونے کے باوجود اکثر بند رہتے یا بند کرادیئے جاتے ہیں جس سے معاشی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں۔ دکانوں پر سامان ختم ہوچکا ہے ۔ نہ دکاندار ہول سیل مارکیٹ جاسکتا ہے نہ دکان ہی کھول سکتا ہے۔ باہر سے سپلائی بھی ہفتوں ہوئے بند پڑی ہے۔ دکاندار اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے پر کسی طرح آمادہ نہیں۔
رفتہ رفتہ علاقے کے افراد ایک اور جال میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔ کاروباری و نوکری پیشہ افراد کے بیکار بیٹھنے کے سبب ان پر لوگوں کا قرض بڑھتاچلاجارہا ہے۔ گھروں سے باہر نکلنے پر اغوا ہونے یا پرتشدد واقعات میں پھنس جانے کا خوف بھی لوگوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کررہا ہے۔
اس صورتحال کو ملک کا تمام میڈیا من و عن پیش کررہا ہے۔ اخبارات بھی لیاری کے ذکر سے خالی نہیں۔ ڈیلی ٹری بیون نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ”جولائی کے شروع ہوتے ہی بہت سے لو گوں نے اس خوف سے بھی گھر سے نکل کر کام پر جانا چھوڑ دیا کہ انہیں اغوا کرلیا جائے گا۔“
اس صورتحال میں سب سے زیادہ پریشانی اور نقصان روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کا ہوا۔ میمن مسجد کے قریب ایک دکان میں کام کرنے والے زبیر احمد نے بتایا کہ کام سے واپسی پر گینگ وار کے لوگ یا تو نقصان پہنچاتے ہیں یا اغوا کر لیتے ہیں صرف اس قصور کی وجہ سے کہ ہمیں ان کے علاقے سے گزرنا پڑتا ہے۔
ایک اور رہائشی کو یقین ہے کہ اتنے دن کی چھٹیوں کے بعد اس کی نوکری تو ختم ہو گئی ہوگی۔گارمنٹ فیکٹری میں کام کرنے والے نوید احمد نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔
سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی
لیاری میں پولیس اور رینجرز کی تعیناتی پر بہت سے لوگ خفاہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پولیس گشت صرف رسمی کارروائی ہے اور بس۔ لیاری کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے انقلابی اقدامات اور کچھ مشکل فیصلوں کی ضرورت ہے ۔
XS
SM
MD
LG