رسائی کے لنکس

دوسروں کے لیے جینا !!


Mad Man-1
Mad Man-1

وہ کئی دہائیوں سے شیفلڈ کی سڑکوں پر چل رہے ہیں پھر چاہے بارش ہو یا برفباری یا پھر گرمیوں کیے دن وہ ہرحال میں کینسر سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہیں۔

دنیا میں ہر دور میں انسانیت سےدوستی کے لیے بے لوث خدمات انجام دینے والوں کی کمی نہیں رہی ہے. برطانیہ کے اسٹیل کے شہر شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والےجان برک ہل انسانیت کے ایک ایسے ہی عظیم دوست ہیں،جو انسانوں کی بھلائی کی کوشش کے لیے ہر وقت متحرک رہتے ہیں۔

جان برک ہل شیفیلڈ کے مشہور 'میڈ مین ود پرام' کے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور یہ ان کے ایک منفرد مقصد کی متاثر کن کہانی ہے۔

جان تقریبا ہر روز ایک جوکرسے ملتے جلتےحلیہ میں ایک رنگ برنگی پرام کو دھکیلتے ہوئے شیفیلڈ کی سڑکوں پر دیوانہ وار بھاگتے نظر آتے ہیں اور بہت سے لوگ انھیں دیوانہ ہی خیال کرتے ہیں۔

وہ کئی دہائیوں سے شیفلڈ کی سڑکوں پر چل رہے ہیں پھر چاہے بارش ہو یا برفباری یا پھر گرمیوں کیے دن وہ ہرحال میں کینسر سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہیں۔

جان برک ہل سبز ٹی شرٹ ،سبز رنگ کے بالوں کی وگ اور ہاتھوں میں ایک بڑا سا سبز دستانہ پہنے ہوئے بچوں کی گاڑی کے ساتھ ایک مزاحیہ کردار دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے بے لوث مقصد کی وجہ سے وہ 'شہر کے ہیرو' مانے جاتے ہیں۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ شیفیلڈ میں ہینڈ ورتھ علاقے کے رہائشی جان کی عمر 77 برس ہے لیکن وہ اس شہر کی سڑکوں پر ہر روز اپنے پرام کے ساتھ کہیں نا کہیں چلتے ہوئےنظر آتے ہیں اور یہ سب کچھ وہ ایک ایسے مقصد کے لیے کررہے ہیں جو ان کے دل کے بہت قریب ہے۔

جان برک ہل پچیس سال پہلے اپنی بیٹی کیرن اور اپنی بیوی جون کو کینسر کے موذی مرض کی وجہ سے کھو چکے ہیں اگرچہ یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھا لیکن اس سانحے نے انھیں کینسر کے مریضوں کی مدد کے لیے اپنی زندگی وقف کرنےکا حوصلہ دیا ہے۔

وہ اب تک برطانیہ کے کینسر کے ایک بڑے خیراتی ادارے' میکملن کینسر سپورٹ' کے لیے تین لاکھ پچاس ہزار پاونڈ سے زائد عطیات جمع کر چکے ہیں جبکہ ایک تنہا شخص کا اتنی بڑی رقم چندے میں جمع کرنا ایک حیرت انگیز بات ہے لیکن ان کا مشن ہےکہ وہ ایک ملین پاونڈ چندے جمع کرنے تک اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔

ان کی خیراتی اداروں کے لیے عطیات جمع کرنے کی کہانی اورجان کے مشہور پرام کے پیچھے کی کہانی انھوں نے اپنی سوانح عمری میں بیان کی ہے ان کی کتاب 'ڈیسٹینس از نو آبجیکٹ ' دس نومبر کو شائع ہوئی ہے اور جان کو امید ہے کہ یہ کتاب ان کے ایک ملین چندے کے مقصد کو پورا کرنے میں مدد کرئے گی۔

حال ہی میں اپنی دستخط شدہ کتابوں کی فروخت کے لیے شیفیلڈ کی مقامی بازار مور مارکیٹ میں آئے تھےجہاں مجھے شیفیلڈ کے مقامی ہیرو سے بات چیت کا موقع ملا ہے۔

جان نے بتایا کہ یہ کتاب ان کی یادوں اور یارکشائر کی سڑکوں کی وہ روداد ہے جس کے بارے میں انھوں نے پہلے کبھی کسی سے بات نہیں کی ہے ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب میں وہ سب کچھ ہےجس کے بارے میں لوگ مجھ سے سوال کرتے تھے اور یہ میرا طریقہ ہے انھیں بتانے کا کہ یہ بات کہاں سے شروع ہوئی تھی۔

جان نے کہا کہ ان کی پوری زندگی خیراتی اداروں کے لیے عطیات جمع کرنے میں گزری ہے انھوں نے ایک ٹین ایجر کے طور پر 1966 میں شیفیلڈ کی مشہور اسٹار واک چیریٹی دوڑ سے اپنے خیراتی کاموں کا آغاز کیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں ہونے والےچیریٹی ریس کے مقابلوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔لیکن اپنی بیٹی اور بیوی کی وفات کے بعد انھوں نے اپنی زندگی کو میکملن کینسر سپورٹ کے لیے چندہ جمع کرنے کے لیے وقف کردیا ہے۔

وہ اب تک میکملن کے لیے 951 دوڑوں میں حصہ لےچکے ہیں وہ گریٹ نادرن ریس 22 مرتبہ اور لندن میراتھن میں 15 مرتبہ دوڑے پیں جبکہ پچھلے سال اپنی 77ویں سالگرہ کے موقع پر انھوں نے 11میل لمبی فنڈ ریزنگ واک مکمل کی تھی۔

جان کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے مقصد کے راستے میں کئی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن میں یہ سب کچھ بیمار لوگوں کی محبت میں کرتا ہوں اور اس مقصد کے آگے یہ فاصلے کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں۔

جان نے تسلیم کیا کہ موسم کی شدت کے باعث بہت بار ایسا ہوا ہےکہ جب وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتے تھے کہ کیا انھیں اس موسم میں باہر نکلنا چاہیئے اور ایسے میں میری نظروں کے سامنے ایک بچی کا مسکراتا چہرہ آجاتا ہے،جو مجھے اس شہر کی ایک سڑک بارنسلی روڈ پر ملی تھی وہ لکیومیا (خون کے کینسر) میں مبتلا تھی اس نے اپنی کار میں بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھوں سے چند سکے میری چندے کے ڈبے میں ڈالے تھے اور وہ شدید تکلیف کے باوجود میری طرف دیکھکر مسکرائی تھی۔

آج وہ بچی اس دنیا میں نہیں ہے لیکن یہ اس کا مسکراتاہوا چہرا ہےجو مجھے ہر روز مجھے میرے مقصد کے لیے میلوں پیدل چلنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

جان برک ہل کی حیرت انگیز فنڈ ریزنگ کی کوششیں کو شیفیلڈ شہرکی طرف سے اس طرح تسلیم کیا گیا کہ انھیں 2012میں لندن اولمپکس کے مشعل بردار ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور 2013میں ملکہ برطانیہ نے ان کی چیریٹی خدمات کے اعتراف میں انھیں شاہی اعزاز برٹش امپائر میڈل سے نوازا ہے۔

XS
SM
MD
LG