رسائی کے لنکس

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس دورے میں فلسطینی صدر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کریں گے، جب کہ طرفین کے وفود کی سطح کے مذاکرات بھی ہوں گے۔ اس سے قبل بھی، 2005ء اور 2013ء میں، وہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں

فلسطین کے صدر محمود عباس پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر پیر کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کے مطابق، فلسطینی صدر کے ہمراہ ان کے پانچ وزراء سمیت 17 رکنی وفد بھی پاکستان آ رہا ہے۔

صدر محمود عباس اس سے قبل 2005ء اور 2013ء میں بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس دورے میں فلسطینی صدر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کریں گے، جب کہ طرفین کے وفود کی سطح کے مذاکرات بھی ہوں گے۔

میزبان وزیر اعظم اور مہمان صدر مشترکہ طور پر اسلام آباد میں غیر ملکی سفارتخانوں کے لیے مختص علاقے 'ڈپلومیٹک انکلیو' میں فلسطین کے سفارتخانے کی نو تعمیر شدہ عمارت کا افتتاح بھی کریں گے۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے 1992ء میں فلسطینی سفارتخانے کے لیے یہ جگہ تحفتاً پیش کی تھی جب کہ چار سال قبل اس سفارتی کمپلیکس کی تعمیر میں بھی تعاون کیا۔

مزید برآں، صدر محمود عباس اپنے پاکستانی ہم منصب ممنون حسین سے بھی ملاقات کریں گے۔

پاکستان اور فلسطین کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور پاکستان ایک آزاد اور ایسی خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی رہا ہے جس کی سرحدیں 1967ء کے پہلے کی جغرافیائی حدود پر مشتمل ہوں اور 'القدس' اس کا دارالحکومت ہو۔

پاکستان میں حکومت کے علاوہ سیاسی و سماجی سطح پر بھی فلسطین اور اس کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار دیکھنے میں آتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان، فلسطین کی خودمختاری کے لیے آواز بلند کرتا آیا ہے اور رواں ماہ ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے ایک مباحثے کے دوران کہا تھا کہ ان کا ملک سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تنازع کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 1967ء کی عرب جنگ سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست ہی امن کی ضمانت ہے۔

XS
SM
MD
LG