رسائی کے لنکس

مبصرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں سیاسی فضا کی تبدیلی بتا رہی ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں ایس این پی سے نکولا اسٹرجن قومی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

برطانوی دارالعوام میں خواتین ارکان کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک بھر میں 191 خواتین ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں جس کے ساتھ پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی مجموعی اراکین کی تعداد کے تقریباً ایک تہائی کے برابر ہو گئی ہے۔

عام انتخابات کے نتائج کے اثرات میں سے ایک حیران کن اثر یہ ہے کہ اس وقت برطانیہ کی بڑی سیاسی جماعتوں سوائے ڈیوڈ کیمرون کی جماعت کنزرویٹو کے، دوسری تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت خواتین نے سنبھال لی ہے۔

روزنامہ انڈیپینڈنٹ کے مطابق اس وقت لیبر کی ڈپٹی لیڈر ہیری یٹ ہرمن، یو کپ سے سوزین ایونز اور لبرل ڈیمو کرٹس کی سارہ برنٹن متعلقہ جماعتوں کی قیادت سنبھال رہی ہیں۔

جبکہ ملک کی تین جماعتوں کی قیادت پہلے سے خواتین کے ہاتھوں میں ہے جن میں اسکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ نکولا اسٹرجن، ویلش جماعت پلائڈ کمری کی لیڈر لی یان وڈ اور گرین پارٹی کی قائد نیتالی بینٹ شامل ہیں۔

لیبر پارٹی کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ نے جمعہ کو مایوس کن انتخابی نتائج کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتے ہوئے لیبر پارٹی کے عہدے سے استعفیٰ پیش کر دیا تھا، جس کے بعد ایڈ ملی بینڈ نے ڈپٹی لیڈر ہیری یٹ ہرمن کو پارٹی کی قیادت سونپی تھی جو نئی قیادت کے انتخاب تک لیبر کی لیڈر ہوں گی۔

تاہم بعد میں قیادت کی دوڑ سے خارج ہونے کا اعلان کرنے والی ہیری یٹ ہرمن کی طرف سے لیبر کی ایک دوسری خاتون ایویٹ کوپر کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔

انتخابی نتائج میں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے پارٹی قیادت چھوڑنے کا اعلان کرنے والوں میں لبرل ڈیمو کریٹس کے رہنما نک کلیگ اور یو کپ کے لیڈر نائجل فراج بھی شامل تھے۔

ادھر نک کلیگ کے استعفیٰ دینے کے بعد تکنیکی طور پر سارہ برنٹن نے پارٹی قیادت سنبھال لی۔ ڈیمو کریٹس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ پارٹی قیادت کے انتخاب سے پہلے تک سرکاری طور پر نک کلیگ سربراہ ہوں گے جبکہ بیرونس سارہ برنٹن پارٹی کی انچارج ہوں گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں سیاسی فضا کی تبدیلی بتا رہی ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں ایس این پی سے نکولا اسٹرجن قومی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انتخابی نتائج کے اپ سیٹ نے ویلش جماعت کو بھی بری طرح متاثر کیا جس کی سربراہ لی یان وڈ نے اس بات کا برملا اظہار بھی کیا ان کی جماعت نے کل تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ان کا کہنا تھا کہ انھیں ووٹوں کے ذریعے تبدیلی لانے میں ناکامی ہوئی ہے۔

دریں اثناء گرین پارٹی کو ملک بھر سے مایوس کن نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے نیتالی بینیٹ نے نتائج کے بعد انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ گرین پارٹی کے ملک بھر میں لگ بھگ دس لاکھ ووٹرز ہیں جبکہ انھیں صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم نیتالی بینیٹ کی جانب سے قیادت چھوڑنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔

اسی طرح بریڈ فورڈ ایسٹ میں پاکستانی نژاد ناز شاہ سے شکست کھانے والے جارج گیلوے کی جماعت ریسپیکٹ پارٹی کا کوئی اُمیدوار بھی پارلیمنٹ میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

XS
SM
MD
LG