رسائی کے لنکس

سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے صدر بشار الاسد کی مستقبل کی حیثیت پر مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات کو تسلیم کیا۔

شام میں خانہ جنگی کے حل کے لیے جنوری میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہونے والے مذاکرات کی تیاری جاری ہے مگر اس مسئلے سے متعلق کچھ اہم سوالات ابھی باقی ہیں۔

ایک سوال یہ ہے کہ مذاکرات میں صدر بشار الاسد کی حیثیت کیا ہو گی؟ دوسرا، شام کی اعتدال پسند حزب اختلاف ایک مربوط اکائی کے طور پر مذاکرات میں شمولیت کر سکے گی یا نہیں؟

دسمبر میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں ایک باغی گروپ کے رہنما کی ہلاکت بھی جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں شریک باغی گروپوں کے خیالات کو مکدر کر سکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں امن کے لیے ایک لائحہ عمل کی توثیق کی تھی جسے انٹرنیشنل سیریئن سپورٹ گروپ میں شامل عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔

اس منصوبے میں شام میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے چھ ماہ کا عرصہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ 18 ماہ کے اندر اندر انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔

اس منصوبے میں جنوری میں مذاکرات شروع ہونے پر جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جنگ بندی میں داعش ایسے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے صدر بشار الاسد کی مستقبل کی حیثیت پر مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات کو تسلیم کیا۔

’’اگرچہ ہر کوئی اس پر متفق نہیں مگر ہمارا اور شام کے لیے عالمی سپورٹ گروپ میں شامل اکثر عالمی طاقتوں کا خیال ہے صدر اسد اپنی ساکھ کھو چکے ہیں اور ملک کو متحد نہیں کر سکتے۔‘‘

صدر اسد کو سپورٹ گروپ کے اراکین روس اور ایران کی حمایت حاصل ہے۔

ادھر حزب اختلاف کو تشویش ہے کہ شامی حکومت یا اس کے اتحادی روس نے جان بوجھ کر مذاکرات میں شریک گروپوں کو نشانہ بنایا ہے۔ شامی حکومت نے اس ماہ جیش اسلامی کے رہنما زھران علوش کو ایک فضائی حملے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جیش اسلامی نے سعودی عرب میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ایک اجلاس میں شرکت کی تھی۔ زھران کی ہلاکت سے خدشہ ہے کہ شامی حزب اختلاف میں مذاکرات کے عمل میں اعتماد کم ہو گا۔

XS
SM
MD
LG