رسائی کے لنکس

پاکستانیوں کی اکثریت قرآن کے مطابق قوانین چاہتی ہے: رپورٹ

  • عشرت سلیم

سروے میں شامل 78 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ ملک کے قوانین کو سختی سے قرآنی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہیئے۔

امریکہ میں قائم تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینیٹر کی طرف سے کیے گئے ایک جائزے کے مطابق پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ملک میں قرآنی تعلیمات کا سختی سے نفاذ چاہتی ہے۔

اس رپورٹ کے لیے گزشتہ سال 5 اپریل سے 21 مئی کے درمیان دنیا کے دس مسلم اکثریتی ممالک میں 10 ہزار سے زائد افراد سے تین سوالات پوچھے گئے تھے۔

بدھ کو جاری ہونے والے جائزے کے لیے لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کے ملک کے قوانین کو سختی سے قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیئے، صرف اسلامی اقدار اور اصولوں کے مطابق ہونا چاہیئے مگر قران کی سختی سے پیروی نہیں کرنی چاہیئے یا قوانین کو قرآن سے بالکل متاثر نہیں ہونا چاہیئے۔

سروے میں شامل 78 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ ملک کے قوانین کو سختی سے قرآنی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہیئے جبکہ 16 فیصد نے کہا کہ قوانین کو اسلامی اقدار اور اصولوں کے مطابق تو ہونا چاہیئے مگر قران کی سخت پیروی نہیں کرنی چاہیئے۔ صرف دو فیصد نے کہا کہ قوانین کو اسلام سے متاثر نہیں ہونا چاہیئے۔

جائزے میں پورے ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں سے یہ سوالات پوچھے گئے اور ان میں غیر مسلم بھی شامل تھے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ماہر تعلیم اور انتہا پسندی کے رحجانات پر نظر رکھنے والے سرگرم کارکن ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا تھا کہ انہیں پیو ریسرچ کے اس جائزے پر کوئی تعجب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کئی دہائیوں تک لوگوں کو یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ ان کے مسائل کا حل دینی قوانین پر عمل درآمد میں موجود ہے اور انہیں کوئی متبادل تصور پیش نہیں کیا گیا۔

ان کے بقول اس کی دوسری وجہ دنیا کے مختلف حصوں میں نام نہاد مذہبی حکومتوں کا قیام تھا جہاں ایک مخصوص دینی توجیہہ کے تحت سزاؤں پر فوری عملدرآمد سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اسلامی قوانین انہیں انصاف دلا سکتے ہیں۔

ان میں ماضی میں افغانستان میں طالبان حکومت، سوات میں صوفی محمد کی تحریک نفاذ شریعت محمدی اور حالیہ دنوں میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں قائم خلاف شامل ہیں۔

’’لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں جہاں لوگ انصاف سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں وہاں پہ اسی قسم کی سخت کارروائی ہونی چاہیئے۔ یہ بنیادی طور پہ مظہر ہے اس ناکامی کا جو ہمارے ہاں حکومت کی طرف سے ہے، جہاں اچھی حکمرانی ناپید ہے۔‘‘

معروف عالم دین ڈاکٹر راغب نعیمی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ عوام ملک میں قرآنی تعلیمات کے مطابق قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں مگر سماجی، معاشی اور سیاسی معاملات میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کے بغیر دینی قوانین سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کے بقول اسلام میں اخلاقی اقدار کو فوقیت دی گئی ہے۔

’’میں یہاں عوام کے سامنے یہ سوال بھی رکھنا چاہوں گا کہ وہ خود کتنا ان احکامات جن کا تعلق انسان کی روزمرہ زندگی کے ساتھ ہے ان پہ عمل پیرا ہیں؟‘‘

جائزے سے معلوم ہوا کہ پاکستان کے علاوہ فلسطینی علاقوں، اردن، ملائیشیا اور سنینگال میں بھی لگ بھگ نصف یا اس سے زیادہ عوام چاہتے ہیں کہ ان کے ملک میں قرانی تعلیمات پر سختی سے عمل کیا جائے۔

اس کے مقابلے میں برکینا فاسو، ترکی، لبنان اور انڈونیشیا میں ایک چوتھائی سے کم لوگوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ملک کو قرانی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیئے۔

ان ممالک میں جہاں غیر مسلموں کی بڑی تعداد آباد ہے، مختلف مذہبی برادریوں میں اس سوال پر اختلاف رائے پایا گیا۔

XS
SM
MD
LG