رسائی کے لنکس

گنجائش پیدا کریں!


یہ الفاظ ہیں، امام ضیا کے، جنھوں نے ورجینیا میں مسجد کا ایک ’’غیر روایتی ماڈل‘‘ متعارف کرایا ہے۔ پندرہ سال قبل، افغانستان سے ترک وطن کرکے پاکستان اور پھر پاکستان سے امریکہ پہنچنے والے، امام ضیا کا حقیقی شعبہ اور تعلیمی پس منظر ’آئی ٹی‘ ہے

ورجینیا کی ایک مسجد کے امام، ضیا کا کہنا ہے کہ ’’جب آپ اپنے مسلمان بہن بھائی کو کافر کہیں گے، اس کے خون کو حلال سمجھیں گے، تو ظاہر ہے جو مسلمان نہ ہو، اس کے خون کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہوگی، آپ کی نظر میں؟۔۔.‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ، ’’حالانکہ ایک حدیث میں ہے کہ تم اس وقت تک مومن نہیں بن سکتے، جب تک تم دوسروں کے لئے بھی وہی پسند نہ کرو جو اپنے آپ کے لئے پسند کرتے ہو۔ اِس حدیث شریف کی شرح میں امام نبوی نے فرمایا ہے کہ اس کا مطلب اسلام کی اخوت نہیں ہے، اس کا مطلب انسانیت کی اخوت ہے۔ یعنی، انسانی برادری کے درد کو اپنا درد سمجھنا‘‘۔

امام ضیا نے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مسجد کا ایک غیر روایتی ماڈل متعارف کروایا ہے۔ پندرہ سال پہلے افغانستان سے ترک وطن کرکے پاکستان اور پاکستان سے امریکہ پہنچنے والے، امام ضیا کا حقیقی شعبہ اور تعلیمی پس منظر آئی ٹی کا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’جب میں مسجد میں امام تھا تو مجھے احساس ہوا کہ یہاں (امریکہ میں) ہمارا نوجوان طبقہ اکثر یہ شکایت کرتا ہے کہ جب ہم مسجد میں آتے ہیں تو لوگ ہمیں ہمارے لباس کی وجہ سے تنقیدی نظروں سے دیکھتے ہیں اور مساجد میں جن موضوعات پر بات کی جاتی ہے، ان کا امریکہ میں پلے بڑھے مسلمان نوجوان کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ، ’’خواتین کو بھی یہی شکایت رہتی تھی کہ ان کے مساجد میں جانے کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ حالانکہ، ہمارے نبی کریم نے فرمایا ہے کہ تم اللہ کی بندیوں کو مساجد میں جانے سے منع مت کرو۔ اس کے باوجود، اکثر مساجد میں چلائے جانے والے پروگراموں میں خواتین کی ضروریات کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ ان دونوں طبقوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے، ہم نے ایک تھرڈ سپیس کی بنیاد رکھی‘‘۔

بقول اُن کے، ’’اِس تیسری جگہ کا نام میک اسپیس رکھا گیا ہے‘‘۔

امام ضیاء کے بقول، ’’ہمارے اجتماعات پر ان فقہی احکامات کا اطلاق نہیں ہوتا، جو مسجد پر لاگو ہوتے ہیں‘‘۔

’میک اسپیس‘ کس طرح امریکہ کے مسلمان نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کر رہی ہے کہ ’’وہ بیک وقت مسلمان اور امریکی رہ سکتے ہیں اور شناخت کے اِن دونوں حوالوں کے درمیان کوئی تصادم موجود نہیں‘‘۔

مزید تفصیل کے لئے، وڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG