رسائی کے لنکس

خوش گو شاعر مخمور سعیدی انتقال کر گئے


مخمور سعیدی (دائیں) ڈاکٹر گوپی چند نارنگ سے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ وصول کرتے ہوئے

مخمور سعیدی (دائیں) ڈاکٹر گوپی چند نارنگ سے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ وصول کرتے ہوئے

دیارِ خاموشی سے کوئی رہ رہ کر بلاتا ہے
ہمیں مخمور اِک دن ہے اسی آواز پر جانا

اسی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اردو کے نام ور شاعر مخمور سعیدی دو مارچ کو ہم سے بچھڑ گئے۔

جدید غزل گو شعرا میں مخمور سعیدی کی آواز سب سے منفرد تھی، کیوں کہ وہ اپنے اشعار میں گرد و پیش کی باتیں کہتے ہیں اور بہت ہی سہل اور آسان انداز میں کہتے ہیں جسے سن کر ایسا لگتا ہے یہی بات تو میرے دل میں بھی تھی لیکن میں اسے اس انداز میں نہیں کہہ سکتا تھا اس لیے ان کی کہی ہوئی ہر بات عام شخص کی جیسی لگتی ہے:

اس کی خود بینی کو یوں آئینہ دکھلائے گا کون
مجھ سے وہ بچھڑا تو خود سے بھی جدا ہو جائے گا

مخمور سعیدی جن کا 72 برس کی عمر میں جے پور میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے شاعری کی سنگلاخ شاہراہ پر بڑا طویل سفر طے کیا تھا۔ ان کا آبائی نام صاحب زادہ سلطان محمد خاں تھا۔ ان کی پیدائش راجستھان کے مردم خیز شہر ٹونک میں ہوئی تھی، جو کسی زمانے میں تخلیق کاروں کی پرورش کرنے والی ریاست تھی۔

مخمور سعیدی نے سنہ 1953ء میں تلاش معاش کے لیے دہلی کا رخ کیا اور نامور شاعر بسمل سعیدی کی شاگردی اختیار کی۔ انہیں دہلی آ کر بے حد جدو جہد کرنی پڑی۔ تب ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے نامور شاعر، ادیب اور صحافی گوپال متل نے اپنے رسالے ”تحریک“ کی ادارت میں شامل کر لیا۔ جہاں وہ 25 برسوں سے زائد عرصے تک کام کرتے رہے۔ ”تحریک“ کے ادارے میں شامل ہونا کوئی آسان کام نہیں تھا کیونکہ اس زمانے میں یہ واحد رسالہ تھا جو ترقی پسندی اور کمیونزم کے خلاف زور دار تحریک چلاتا تھا۔ اسی لیے گوپال متل کو ادبی حلقوں میں سی آئی اے کے ایجنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ لیکن مخمور سعیدی ان کے جان نثار سپاہی ثابت ہوئے اور وہ ہر مورچے پر ان کے ساتھ ڈٹے رہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے متعدد کتابوں کے ترجمے کیے، تدوین و ترتیب کی اور شاعری بھی کرتے رہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”گفتنی“ سنہ 1960ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ اس کے بعد سیہ بر سفید، آواز کا جسم، سب رنگ، واحد متکلم، آتے جاتے لمحوں کی صدا، بانس کے جنگلوں میں گزرتی ہوا سمیت متعدد شعری مجموعے شائع ہوئے۔ ان کی ایک تصنیف تجدید جنوں منظوم تراجم پر مشتمل ہے۔تین سال قبل انہیں ان کے شعری مجموعے ” میں اور راستہ “ پر ساہتیہ اکادمی انعام بھی ملا تھا۔ ان کے فن اور شخصیت پر ایک کتاب ” بھیڑ میں اکیلا“ کے عنوان سے ش ک نظام نے ترتیب دے کر شائع کی تھی۔

مخمور سعیدی قلم کے مزدور تھے۔ انہوں نے دہلی میں ایک درجن سے زائد اردو کے ادبی رسالوں کی ادارت کی۔ جن میں تحریک کے علاوہ گل افشاں، ایوان اردو، اردو دنیا اور فکر و تحقیق جیسے رسائل کے نام آتے ہیں۔ لیکن ان کی شناخت انفرادی لب و لہجے کے شاعر کی ہے۔ وہ دہلی اردو اکادمی کے سکریٹری بھی رہے اور گذشتہ دس برسوں سے بھارت سرکار کے ادارے ”قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان“ کے مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

حالانکہ مخمور سعیدی مشاعروں میں تحت پڑھتے تھے اس کے باوجود اپنے کلام اور ادائیگی کے مخصوص انداز کے سبب کافی مقبولیت حاصل کی۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے علاوہ امریکہ، انگلینڈ، دبئی، شارجہ اور سعودی عرب وغیرہ کے مشاعروں میں بھی شرکت کر کے دال حاصل کی تھی۔

تین مارچ کو مخمور سعیدی کی میت جے پور سے ٹونک لے جائی گئی جہاں ان کی تجہیز و تکفین کی گئی جس میں بہت بڑی تعداد میں سوگواروں نے شرکت کی۔

مخمور سعیدی کے چند منتخب اشعار:
سرخیاں ڈوبی ہوئی خون میں اخباروں کی
آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے

اتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں
گھر کہیں گم ہو گیا دیوار و در کے درمیاں

الجھ کے خود کبھی ٹوٹے گی ڈور لفظوں کی
بکھرتے جائیں گے سب سلسلے خیالوں کے

فسادی جا چکے اپنے گھروں کو
محافظ شہر کے چوکس کھڑے ہیں

اب جہاں پاؤں پڑے گا یہی دلدل ہو گی
جستجو خشک زمینوں کی نہ کر پانی میں

XS
SM
MD
LG