رسائی کے لنکس

بتایا گیا ہے کہ سال 2014ءکے امن انعام کے لیے، نوبل انسٹی ٹیوٹ کو دنیا بھر سے کل 278 نامزدگیاں وصول ہوئی ہیں، جس میں انفرادی شخصیات کے علاوہ 47 بین الاقوامی تنظیموں کے نام بھی شامل ہیں

رواں برس، نوبل امن انعام کی فہرست میں ریکارڈ نامزدگیاں حاصل ہوئی ہیں. اس بات کا اعلان نوبل امن انعام دینے کا فیصلہ کرنے والے ’نوبل انسٹی ٹیوٹ‘ کی جانب سے منگل کے روز کیا گیا۔

’نوبل انسٹی ٹیوٹ‘ کے سربراہ، گئیرلنڈ ایسٹڈ نے بتایا کہ سال 2014 ءکے امن انعام کے لیے انھیں دنیا بھر سے کل 278 نامزدگیاں وصول ہوئی ہیں، جس میں انفرادی شخصیات کے علاوہ 47 بین الاقوامی تنظیموں کے نام بھی شامل ہیں۔
’ایکسپریس ٹربیون‘ کی خبر کے مطابق، ہمیشہ کی طرح، نوبل انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے نامزد امیدواروں کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے،جن کے ناموں کو کمپنی کی جانب سے نصف صدی تک راز میں رکھا جاتا ہے۔ البتہ، درخواستیں جمع کرانے والے انتخاب تشہیر کے لیے آزاد سمجھے جاتے ہیں۔
علاوہ ازیں، امن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کمیٹی اوسلو کی جانب سے ہر سال تصدیق شدہ امیدواروں کی ایک فہرست مرتب کی جاتی ہے۔ رواں برس نوبل انعام برائے امن کی اس فہرست کےقابل ذکر ناموں میں ملالہ یوسفزئی کے نام کے ساتھ ساتھ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایڈورڈ سنوڈن کے علاوہ پوپ فرانسس اور دیگر اہم شخصیات کے ناموں کو شامل کیا گیا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ لنڈایسٹڈ نے کہا کہ کاغذات نامزدگیوں کی تعداد میں اضافہ اس معتبر انعام میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے جس میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
نوبل انعام برائے امن کی نامزدگیاں درج کرانے کی آخری تاریخ پہلی فروری مقرر تھی جبکہ، سلیکشن کمیٹی نےامیدواروں کی فہرست کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے آج منگل کے روز اجلاس طلب کیا ہے۔ امن انعام کے فاتح جو کہ ،1.24 ملین کے انعام کا حقدار کہلائے گا اس کا اعلان 10 اکتوبر کو اوسلو میں کیا جائے گا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی نامزدگی کے حوالے سے انھیں ایک مضبوط امیدوار ظاہر کیا جارہا ہے، جنھیں روسی عوام کی جانب سے شام کے تنازع میں ان کے کردار، یوکرائن کے واقعات اور سرمائی سوچی اولمپکس کے انعقادکے حوالے سے نامزد کیا گیا ہے۔
گزشتہ برس امن انعام کے لیے نامزد امیدواروں میں ایک پسندیدہ نام کی حیثیت سے ابھرنے والی سولہ سالہ ملالہ یوسفزئی جو پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کی کوششوں پر طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہوئی تھیں انھیں اس سال بھی نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
ان کے علاوہ دیگر شخصیات میں امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کو بھی اس فہرست میں نامزدگی ملی ہے جنھیں امریکی عالمی نگرانی کے پروگرام کے بارے میں خفیہ دستاویزات افشا کرنے کے حوالے سے ان کے ملک میں الزامات کا سامنا ہے انھیں روس کی جانب سے سیاسی پناہ ملی ہوئی ہے۔
امن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو سے وابستہ کرسٹین برگ ہارپیوکن نے کہا کہ ماہرین کی جانب سے نوبل امن انعام کے فاتح کے بارے میں جو قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ان میں دولت کی تقسیم نو کے حوالے سے پوپ فرانسس کی کوششوں کی وجہ سے انھیں مقبول اور فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG