رسائی کے لنکس

ملالہ امید کی علامت ہیں: بان کی مون


اسکائیپ پر بان کی مون ملالہ یوسف زئی سے گفتگو کرتے ہوئے

اسکائیپ پر بان کی مون ملالہ یوسف زئی سے گفتگو کرتے ہوئے

ملالہ نے مسٹر بان کو بتایا کہ اُن کی صحت بہتر ہے اور وہ ایک لیڈر کی حیثیت سے دنیا کی خدمت بجا لانے کی خواہش رکھتی ہیں: ترجمان اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے ملالہ یوسف زئی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے، جِس پاکستانی بچی کو لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے جرم میں طالبان نے گذشتہ برس سر میں گولی ماردی تھی۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے جمعے کے روز بتایا کہ سکریٹری جنرل کو اُن کے خیالات نے بہت متاثر کیا، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ملالہ ’امید کی علامت ہیں‘۔

پندرہ برس کی یہ لڑکی اِن دِنوں برطانیہ میں رہتی ہیں، جہاں اُن کے زخموں کا علاج ہو رہا ہے۔

فروری میں، برطانوی معالجوں نےاُن کی کھوپڑی پر ٹائٹینم کا پردہ لگایا تھا اور اُن کے بائیں کان کی سماعت بحال کردی تھی۔

اقوام متحدہ کے ترجمان مارٹن نسرکی نے کہا ہے کہ ملالہ نے مسٹر بان کو بتایا کہ اُن کی صحت اب بہتر ہے اور وہ ایک لیڈر کی حیثیت سے دنیا کی خدمت بجا لانے کی خواہش مند ہیں۔

نسرکی نے کہا کہ مسٹر بان کافی دِنوں سے ملالہ سے بات کرنے کے خواہاں تھے اور جمعے کے روز اسکائیپ پر اُن سے گفتگو کی۔ اِس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ’ملینئم ڈولپمنٹ‘ کے اہداف کے تعین کو آج ایک ہزار دِن پورے ہوئے ہیں، جس کا ہدف 2015ء کے آخر تک غربت میں کمی لانا ہے۔

نسرکی نے بتایا کہ ملالہ تعلیم کی علامت ہیں، جو دراصل ’ترقی کے اِن اہداف‘ میں سے ایک ہدف ہے۔

ملالہ کو گذشتہ اکتوبر میں طالبان نے پاکستان کی وادی سوات کے ایک اسکول سے واپسی پر گولی کا نشانہ بنایا تھا۔

طالبان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے بچیوں کی تعلیم کے حق میں بات کرتے ہوئے اُنھوں نے اِس شدت پسند گروپ کے خلاف بیان دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG