رسائی کے لنکس

لندن میں جاری بارہ روزہ بین الاقوامی فلمی میلہ' لندن فلم فیسٹیول' میں ہفتے کی شام ملالہ کی زندگی پر مبنی فلم 'ہی نیمڈ می ملالہ' کی خصوصی اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔

لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے والی کارکن اور کم عمر ترین پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کی عام زندگی کی خاص کہانی کو پہلی بار سینما کے پردے پر پیش کیا گیا ہے۔

لندن میں جاری بارہ روزہ بین الاقوامی فلمی میلہ' لندن فلم فیسٹیول' میں ہفتے کی شام ملالہ کی زندگی پر مبنی فلم 'ہی نیمڈ می ملالہ' کی خصوصی اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔

فلم کے تخلیق کار امریکی فلمساز ڈیوس گوگن ہائیم کی دستاویزی فلم میں ملالہ کی زندگی کی غیر معمولی داستان کو ملالہ اور اس کے خاندان کی زبانی سنایا اور دکھایا گیا ہے۔

59ویں لندن فلم فیسٹیول میں پیش کی جانے والی ملالہ پر دستاویزی فلم کی عکاسی اٹھارہ ماہ میں مکمل کی گئی۔ اس فلم کی فلمبندی برطانیہ سمیت کینیا، نائجیریا، ابوظہبی اور اردن میں کی گئی ہے۔

فلم ملالہ کی بچپن کی یادوں اس کے مضبوط ارادوں اور ان واقعات اور حالات کے گرد تانا بانا بنتی ہے، جس نے ملالہ جیسی سیدھی سادھی عام سی لڑکی کو دنیا کے لیے بہادری کی ایک مثال بنا دیا ہے۔

فلم کے ہدایتکار کے ڈیوس گوگن ہائیم کے مطابق یہ فلم ملالہ کی زندگی کی ایک کھلی تصویر ہے، جس میں ملالہ کے خاندان کی آپس کی قربت اور خاص طور پر ملالہ کے اپنے والد ضیا الدین یوسفزئی کے ساتھ قریبی تعلق کے اوپر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ملالہ فلم میں کہتی ہے کہ ہم دو مختلف جسموں میں ایک روح ہیں، اس نے ناقدین کا منہ بند کرتے ہوئے کہا جو سمجھتے ہیں کہ ملالہ اپنے والد کی زبان بولتی ہے۔

''میرے والد نے مجھے ملالئی کا نام دیا تھا لیکن انھوں نے مجھے ملالئی نہیں بنایا ہے، میں نے اس ز ندگی کا انتخاب خود کیا ہے''۔

ملالہ فلم میں بتاتی ہے کہ اس کا نام 1880ء میں برطانوی افواج کے خلاف پشتون آرمی جلوس نکالنے والی پشتون قومی ہیرو میوند کی کم عمر ملالئی کے نام پر رکھا گیا تھا۔

''جب میں چھوٹی تھی تو لوگ کہتے تھے کہ یہ نام اچھا نہیں ہے یہ منحوس نام ہے اسے تبدیل کر دو لیکن میرے والد کہتے تھے کہ اس نام کا ایک مطلب بہادری بھی ہے اور انھوں نے میرا نام کبھی تبدیل نہیں کیا ''۔

فلم کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ملالہ کی آبائی سرزمین پاکستان کےحوالے سے اس کے پس منظر اور وادی سوات میں ملالہ پر 2012ء کے قاتلانہ حملے سے پہلے کے تمام واقعات کو اینی میشن کرداروں کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔

فلم میں ملالہ کی برطانوی زندگی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جب اسے سوات کے قدامت پسند معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے پر شدت پسندوں نے سزا کے طور پر اس کے سر پر گولی چلائی تھی، جس کے بعد اسے علاج کے لیے برمنگھم کے ایک اسپتال لایا گیا تھا، جہاں آج وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہے۔

اس فلم میں ملالہ مخلتف جگہوں پر مختلف انداز میں دکھائی دیتی ہیں، اسے برمنگھم میں اپنے اسکول جانے سے لے کر نیو یارک کی شاہراہوں او پناہ گزینوں کے خیموں کا دورہ کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے، جہاں وہ پسماندہ بچوں اورخاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کی طاقت کے بارے میں پرجوش تقاریر کرتی نظر آئی ہے۔

فلم میں ملالہ کو اپنے بھائیوں خوشحال اور اٹل کے ساتھ تکرار کرتے ہوئے اور پنجہ لڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے تو کہیں وہ اپنے والد کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے جبکہ اس کا بھائی کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ ملالہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتی ہے لیکن گھر میں وہ ہمیں ستاتی ہے وہ کہتا ہے کہ ملالہ تھوڑی سی شرارتی ہے لیکن زیادہ شرارتی نہیں ہے۔

ملالہ نے اس سال اپنی اٹھارویں سالگرہ لبنان میں شامی بے گھر افراد کے ساتھ منائی تھی اور اس موقع پر انھوں نے وہاں ایک لڑکیوں کے اسکول کا بھی افتتاح کیا تاہم، ملالہ کہتی ہے کہ میں ایک عام لڑکی تھی اور اب بھی ایک عام لڑکی ہوں لیکن اگر میرے ماں باپ عام یا قدامت پسند ہوتے تو آج میں شاید دو بچوں کی ماں ہوتی۔

فلم میں ملالہ کی والدہ تورپکائی یوسفزئی کی کہانی کو مختصراً فلمایا گیا ہے۔ ملالہ کی والدہ نے لندن فلم فیسٹیول میں اپنے ان پڑھ رہ جانے کے بارے میں بتایا کہ میں نے اپنا اسکول اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہاں میرے علاوہ سب لڑکے تھے جبکہ میں اپنی کزن بہنوں کے ساتھ کھیلنا چاہتی تھیں تاہم انھوں نے بتایا کہ وہ انگریزی زبان میں پڑھنا اور لکھنا سیکھ رہی ہیں۔

انھوں نے ملالہ کے بارے میں اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملالہ جیسی لڑکی کو بولنے اور اس کا حق مانگنے سے منع نہیں کر سکتی تھیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ ملالہ پر قاتلانہ حملہ کیا جا سکتا ہے۔

فلم میں ملالہ کو ایک عام لڑکی کی طرح ہالی وڈ کے نامور اداکار بریڈپٹ کی تصویر دیکھتے ہوئے دیکھایا گیا ہے جبکہ وہ اپنی پسندیدہ کتاب اور کرکٹ کے جنون پر بھی بات کرتی ہے لیکن، ایک عام ٹین ایجر لڑکیوں جیسے شوق رکھنے کے باوجود اس کےخواب اپنی کلاس کی دیگر ہم عمر لڑکیوں جیسے نہیں ہیں، اس کی آنکھیں واپس اپنے گھر سوات جانے کا خواب دیکھتی ہیں یہ ہی نہیں اس کے خوابوں کی اڑان بہت اونچی ہے وہ پاکستان کا وزیر اعظم بننے کا سپنا آنکھوں میں سجائے بیٹھی ہے۔

برطانوی سینما گھروں میں ملالہ پر دستاویزی فلم کی نمائش6 نومبر کو کی جائے گی جبکہ یہ فلم امریکہ کے سینما گھروں میں 2 اکتوبر کو ریلیز کر دی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG