رسائی کے لنکس

بیرون ملک سیاسی پناہ کے تاثر کی نفی


ضیاالدین یوسف زئی اپنے بیٹوں کے ہمراہ وزیرداخلہ سے ملاقات

ضیاالدین یوسف زئی اپنے بیٹوں کے ہمراہ وزیرداخلہ سے ملاقات

ضیاالدین یوسف زئی نے کہا کہ وہ ڈاکٹروں کے مشورے پر اپنی بیٹی ملالہ کے پاس برطانیہ جا رہے ہیں۔

طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی ملالہ یوسف زئی کے والد نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ ان کا اپنے خاندان کے ہمراہ لندن جانے کا مقصد برطانیہ میں سیاسی پناہ کا حصول ہے۔

سوات میں اپنی بیٹی پر نو اکتوبر کو حملے کے بعد پہلی مرتبہ جمعرات کو وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے ہمراہ سرکاری میڈیا کے نمائندوں سے ضیاالدین یوسف زئی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈاکٹروں کے مشورے پر اپنی بیٹی کے پاس برطانیہ جا رہے ہیں۔

’’مجھے تو ان افواہوں پر ہنسی آئی کیونکہ ہماری جتنی بھی یہ قربانیاں ہیں، بیٹی پہ جو قاتلانہ حملہ ہوا، اس کا اتنا چھوٹا مقصد نہیں ہوسکتا کہ ہم کسی دوسرے ملک میں جاکر باقی زندگی وہاں گزاریں۔ میں یقیناَ دکھ کے ساتھ خاص حالات میں یہ ملک چھوڑ رہا ہوں کیونکہ پوری قوم کو پتا ہے کہ میری بیٹی کی صحت یابی کے لیے ہمارا اُس کے پاس ہونا ضروری ہے۔ ‘‘

ضیاالدین نے کہا کہ ملالہ پر قاتلانہ حملے کے بعد ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت نے ان کی بیٹی کے علاج کے لیے جو غیر معمولی کوششیں کیں وہ اس کے لیے سب کے بے حد ممنون ہیں۔

’’میری بیٹی کو ایک رائل (شاہی) جہاز میں وہاں (لندن) بھیجا گیا اور ہمیں ایک رائل گیسٹ (شاہی مہمان) کے طور پر یہاں رکھا گیا ہے۔ ہمارے قریبی رشتہ داروں سے ہماری ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں۔ چونکہ سکیورٹی کا رِسک تھا، تھوڑا سا مسئلہ تھا، اس لیے ہم زیادہ لوگوں سے نہ مل سکے جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ یہ تاثر بھی قطعی بے بنیاد ہے کہ حکومت نے انھیں اور خاندان کے دیگر افراد کو اسلام اباد میں نظر بند کر رکھا ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بتایا کہ ملالہ تیزی سے صحیت یاب ہو رہی ہے اور اس نے اپنے والدین کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وطن واپسی پر ملالہ کو حکومت سرکاری تحفظ فراہم کرے گی۔

طالبان شدت پسندوں نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ زندہ بچ گئی تو وہ دوبارہ اسے ہلاک کرنے کی کوشش کریں گے۔

ان دھمکیوں کے بعد بعض حلقوں نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ملالہ علاج کے بعد بیرون ملک ہی قیام کرنے کو ترجیح دیں گی مگر ان کے والد نے کہا کہ جونہی ان کی بیٹی صحت یاب ہوئیں وہ پاکستان واپس لوٹ آئیں گے۔
XS
SM
MD
LG