رسائی کے لنکس

علم اور کتاب کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے، ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ کتابوں کے بغیر کمرہ روح کے بغیر انسان کے بے دم جسم کی طرح ہوتا ہے

ملالہ یوسف زئی نے منگل کے روز اِس خواہش کا اظہار کیا کہ دنیا کے ہر شہر میں بڑی لائبریریاں قائم ہوں ، تاکہ، اُن کے بقول، ’دنیا بھر کے بچوں کو روشن مستقبل کے یکساں مواقع میسر ہوں‘۔

اُنھوں نے یہ بات برمنگھم میں یورپ کی سب سے بڑی لائبریری کا افتتاح کرتے ہوئے کی۔ملالہ نے کہا کہ علم کے الفاظ ہی بچوں کا مستقبل سنوارتے ہیں۔

علم اور کتاب کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ کتابوں کے بغیر کمرہ روح کے بغیر انسان کے بے دم جسم کی مانند ہوتا ہے، جب کہ کتاب اور لائبریری کے بغیر ایک شہر قبرستان کی مانند ہوتا ہے۔

مالہ یوسف زئی نے لائبریری کو ’دِی الکیمسٹ‘ کتاب تحفے میں دی جو لائبریری کے افتتاح سے قبل تحفے میں دی گئی آخری کتاب ہوگی۔

اپنے پُراثر خطاب کے بعد ملالہ نے تالیوں کی گونج میں برمنگھم لائبریری کا افتتاح کیا۔

سولہ برس کی ملالہ کو اب تک عالمی انعام برائے امن سمیت بچوں کا عالمی انعام برائے امن بھی مل چکا ہے۔

ایک برطانوی ٹیلی ویژن نے ملالہ کے خطاب کو براہِ راست نشر کیا جب کہ برطانوی میڈیا نے یورپ کی سب سے بڑی لائبریری کے افتتاح کو ملالہ اور برمنگھم لائبریری کے لیے ایک اعزاز قرار دیا۔

ملالہ کو علاج کے لیے پاکستان سے کوئین الزبیتھ اسپتال برمنگھم لایا گیا تھا، جس کے بعد وہ برمنگھم میں ہی اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہیں۔

مالہ اپنی زندگی پر مشہور صحافی کرسٹینا لیمب کے ہمراہ ایک کتاب بھی لکھ رہی ہیں۔
XS
SM
MD
LG