رسائی کے لنکس

انگنت تالیوں کی’گھن گرج‘ میں نمایاں ہوتا پاکستان کا نام ۔۔۔پھر اس کی تاریخ کے ماتھے پر دنیا کا بے مثال اعزاز کسی جگمگاتے ہوئے جھومر کی مانند سجا، تو دنیا عش عش کر اٹھی۔ کیا تھا جو اس حسین شام میں پاکستان کا سر فخر سے بلند نہ کرگیا

دسمبر کی سردی۔۔ شاعری کی دنیا میں کتنی حسین ہوتی ہے؟۔۔شاید اتنی ہی حسین جتنی 10 دسمبر کی شام تھی۔

ہولے ہولے سی ٹھنڈ میں ڈوبا ماحول، انگنت رنگوں میں ڈبا اوسلو کا سٹی ہال، روشنیوں کی بہاریں، انگنت تالیوں کی’گھن گرج‘ میں نمایاں ہوتا پاکستان کا نام ۔۔۔

پھر اس کی تاریخ کے ماتھے پر دنیا کا قیمتی، سب سے اہم اور بے مثال اعزاز کسی جگمگاتے ہوئے جھومر کی مانند سجا تو دنیا عش عش کر اٹھی۔

۔۔۔کیا تھا جو اس حسین شام میں پاکستان کا سر فخر سے بلند نہ کرگیا۔!! دنیا کے ہاتھوں ملالہ یوسف زئی کے اعتراف خدمت میں جہاں چار چاند لگے، وہیں پاکستانی موسیقی کو بھی ایک نیا عروج ملا۔۔۔اور وہ بھی ۔۔راحت فتح علی کی ’زبانی‘۔

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں سجی اس محفل کو دنیا ٹی وی کی چھوٹی سی اسکرین کی بدولت دنیا بھر کے 100سے زیادہ ممالک میں براہ راست دیکھا گیا۔

وائس آف امریکہ سے اپنی خوشیاں شیئر کرتے ہوئے راحت فتح علی بتاتے ہیں ۔۔۔’وہ لمحہ بہت مسحور کُن تھا ۔۔۔میں یہ سوچ کر ہی خوشی اور دلی جذبات کو کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا کہ بیک وقت دنیا کے 110 ممالک میں میری آواز۔۔۔میرے ملک کی پہچان بنی ہوئی تھی۔۔۔میرے لئے ایسا لمحہ اب تک نہیں آیا تھا ۔۔۔ خوشی کے مارے میں بے حال تھا۔ رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔‘

’میرے لئے تقریب میں ایک اعزاز یہ بھی تھا کہ جب حمدیہ کلام ’اللہ ہو۔۔ اللہ ہو‘ پیش کیا تو لوگ اپنی اپنی جگہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔۔اس اسٹینڈنگ اویشن کو دیکھ کر جو میرے جذبات تھے وہ دنیا کی کسی بھی زبان میں ۔۔۔کسی بھی الفاظ میں ادا نہیں کئے جا سکتے۔‘

ملالہ یوسف زئی کے لئے پشتو گلوکار سردار علی ٹکر نے اپنی آواز میں ایک گیت پیش کیا تو ’نوبل پیس پرائز‘ کی پوری تقریب گویا پاکستان کے ثقافتی رنگوں میں پوری رنگ گئی۔ ہال میں موجود پاکستانی اور بھارتی دونوں کمیونیٹیز کی اہم شخصیات بھی جھوم جھوم اٹھیں۔

خوشی کے ان لمحات کو مزید یادگار بنانے کیلئے بھارت کی جانب سے بھی سرود نواز استاد امجد علی خاں جیسا ہیرا موجود تھا، جبکہ ناروے کے سنگرز اور سازندوں نے بھی شاندار پرفارمنس دی۔

نوبل پیس پرائز کنسرٹ
اگلے دن اوسلو میں ہی ایک گرینڈ ’نوبل پیس پرائز کنسرٹ‘ بھی ہوا، جس کی ہوسٹ تھیں جانی پہچانی ایکٹریس، کوئین لطیفہ۔۔جبکہ، آسکر ایوارڈ یافتہ بھارتی اداکارہ فریدہ پنٹو اور سنگر راگیشوری موجود تھیں۔ کنسرٹ میں راحت فتح علی خان نے اپنی اور اپنے استار نصرت فتح علی کی کچھ قوالیاں اور اپنی آواز میں گائے ہوئے بالی ووڈ کے چند گانے بھی پیش کئے۔ اس کنسرٹ کو بھی میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں دیکھا گیا۔

XS
SM
MD
LG