رسائی کے لنکس

اُنھوں نے اپنی تقریر کا آغاز ’بسم اللہ‘ سے کیا؛ اور کہا کہ ’’اگر کوئی بندوق اٹھا کر دہشت گردی کرتا ہے تو وہ مسلمان نہیں رہتا‘‘۔ پارلیمان آمد پر وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور دیگر منتخب ارکان نے اُن کا خیر مقدم کیا۔ اُنھیں کینیڈا کی اعزازی شہریت دی گئی

دنیا کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ، ملالہ یوسف زئی نے بدھ کے روز اوٹاوا شہر میں پارلیمان کے ایوان ِزیریں سے خطاب کیا، جب اُنھیں کینیڈا کی اعزازی شہریت دی گئی۔

اِس موقعے پر، اپنے خیرمقدمی کلمات میں، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ’’ہم کینیڈا کے شہری کی حیثیت سے ملالہ کو خوش آمدید کہتے ہیں‘‘۔

پارلیمان سے خطاب میں ملالہ نے کہا کہ ’’دہشت گرد میرے مذہب کے نمائندے نہیں ہو سکتے‘‘۔

اُنھوں نے اپنی تقریر کا آغاز ’بسم اللہ‘ سے کیا؛ اور کہا کہ ’’اگر کوئی بندوق اٹھا کر دہشت گردی کرتا ہے تو وہ مسلمان نہیں رہتا‘‘۔

ملالہ نے کہا کہ ’’تعلیم کی طاقت سے ہی دنیا تبدیل ہو سکتی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اسلام ''روشن خیال دین ہے''، جس میں ''تعلیم، تسخیر اور تحقیق'' پر زور دیا گیا ہے۔

ملالہ نے کہا کہ ''دقیانوسی اندازِ فکر اپنا کر دینِ اسلام کی خدمت نہیں کی جا سکتی''۔ بقول اُن کے، ''وہ لوگ جو بچوں سے ڈرتے ہیں دلیر نہیں کہلا سکتے''۔

اُن کا کہنا تھا کہ 'ضرب عضب' اور اب، 'رد الفساد' کے مشن کے حصول کے لیے پاکستان فوج، قانون کا نفاذ کرنے والے اداروں اور عوام نے ''بے تحاشہ قربانیاں دی ہیں''، جن کے نتیجے میں امن و سکون کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملی ہے اور دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ تعلیم کے زیور ہی سے ملک و قوم کی خدمت کی جا سکتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد افراد نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور محنت و مشقت کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا ہے، ''اور اُنھوں نے زندگی کے کئی ایک اہم شعبہ جات میں اپنا لوہا منوایا ہے''۔

مہاجرین اور تارکینِ وطن سے متعلق، ملالہ نے کہا کہ ’’میری دعا ہے کہ کینیڈا اپنی عظیم روایت کے مطابق تمام لوگوں کے لیے اپنے بازو کھلے رکھے‘‘، اور یہ کہ ’’کینیڈا کے ہمسائے ملک، امریکہ کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیئے‘‘۔

اِس سے قبل، ’ہاؤس آف کامنز‘ میں آمد پر، وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور پارلیمان کے ارکان نے ملالہ کا کھڑے ہو کر پُرتپاک استقبال کیا۔

ملالہ یوسفزئی کو سنہ 2014میں نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ حال ہی میں وہ اقوام متحدہ کی ’امن کی پیامبر‘ بننے والی کم عمر فرد اور یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی ہیں۔ اِس تقریب کے دوران اُنھوں نے کہا تھا کہ ''تعلیم ہر بچے اور خاص طور پر لڑکیوں کا حق جسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیئے''۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ "اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لڑکیوں کو تعلیم دینا ہوگی؛ اور جب آپ لڑکیوں کو تعلیم دیتے ہیں تو دراصل آپ پورے معاشرے کو تبدیل کرتے ہیں۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG