رسائی کے لنکس

فروخت سے حاصل ہونے والی رقم "ملالہ فنڈ فار چیریٹی" کو عطیہ کی جائے گی۔ فنڈ کا کہنا ہے کہ وہ یہ رقم نائیجیریا میں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے لیے صرف کرے گا۔

برطانوی مصور کی تخلیق کردہ لڑکیوں کے حقوق تعلیم کی علمبردار پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کی تصوری ایک لاکھ اڑھائی ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی ہے۔

ملالہ کو 2012ء میں طالبان شدت پسندوں نے سوات میں گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا تھا۔ برطانیہ میں علاج مکمل ہونے کے بعد 2013ء میں انھوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ برمنگھم میں شروع کیا۔

مصور جوناتھن ییو نے یہ تصویر 2013ء میں بنائی تھی اور اسے بدھ کے روز نیویارک میں نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔

یہ تصویر گزشتہ سال نیشنل پورٹریٹ گیلری میں جوناتھن کی دیگر تصویروں کے ساتھ آویزاں رہی۔

فروخت سے حاصل ہونے والی رقم "ملالہ فنڈ فار چیریٹی" کو عطیہ کی جائے گی۔ فنڈ کا کہنا ہے کہ وہ یہ رقم نائیجیریا میں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے لیے صرف کرے گا۔

نائیجیریا میں شدت پسند گروپ بوکو حرام نے 200 سے زائد طالبات کو گزشتہ ماہ اغوا کر لیا تھا جن کی بازیابی کے لیے امریکہ سمیت بعض دیگر ممالک بھی نائیجیریا کی معاونت کر رہے ہیں۔

اس واقعے کی دنیا بھر میں شدید کی جا رہی ہے اور طالبات کے اغوا کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں ملالہ نے بھی اپنی آواز شامل کی ہے۔

16 سالہ پاکستانی طالبہ کی لڑکیوں کے تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ ملالہ یوسفزئی کو متعدد بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا جاچکا ہے جب کہ گزشتہ سال امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد ہونے والوں میں بھی ملالہ کا نام شامل تھا۔
XS
SM
MD
LG