رسائی کے لنکس

ملالہ یوسفزئی کی وائس آف امریکہ کی تقریب میں شرکت


ملالہ کے ساتھ ان کے والدین اور دو بھائی بھی موجود تھے۔ ملالہ کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے کہا کہ ملالہ پر حملے کا دن ان کی بیٹی کی زندگی کا ’’سخت ترین اور برا ترین دن‘‘ تھا۔

دنیا میں سب سے کم عمری میں نوبل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی عورتوں اور لڑکیوں کو با اختیار بنانے کا پیغام لے کر واشنگٹن آئیں۔

انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد کرنا شروع کریں۔

تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے پر اُنھیں طالبان کی طرف سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

ملالہ یوسفزئی عورتوں کو بااختیار بنانے کے لیے دنیا بھر کا سفر کر چکی ہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کی پشتو زبان کی ڈیوا سروس کی ایک تقریب میں عورتوں کے حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم پر گفتگو کی۔

بعد میں ایک انٹرویو میں ملالہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیاست سمیت ہر شعبے میں حصہ لینے کے لیے مزید عورتوں کو آگے آنا چاہیئے۔

’’میں سمجھتی ہوں کہ مردوں اور عورتوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا اہم ہے۔ مردوں کو یہ چاہیئے کہ وہ عورتوں کو وہ جگہ دیں جو ان کا حق ہے۔ یہ اجتماعی کام ہے اور مجھے امید ہے کہ معیاری تعلیم اور ذہنیت بدلنے کے ساتھ ہم یہ تبدیلی دیکھیں گے اور ہم دیکھیں گے کہ عورتیں وہ کردار ادا کر رہی ہیں جو ان کا حق ہے۔‘‘

انہوں نے اپنے والد کے بارے میں کہا ہے کہ ’’انہوں نے اپنے حقوق کے لیے بولنے میں میری حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی مگر مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا، مجھے مجبور نہیں کیا۔ میں نے ان سے سیکھا ہے اور جو کردار میں نے ادا کیا وہ ان کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہی ہے۔‘‘

ملالہ کے ساتھ ان کے والدین اور دو بھائی بھی موجود تھے۔ ملالہ کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے کہا کہ ملالہ پر حملے کا دن ان کی بیٹی کی زندگی کا ’’سخت ترین اور برا ترین دن‘‘ تھا۔

ملالہ کی زندگی پر حال ہی میں ایک دستاویزی فلم ’’ہی نیمڈ می ملالہ‘‘ریلیز ہوئی ہے جس سے ان کا پیغام پھیل رہا ہے۔ اس فلم کا اردو میں مطلب ’انہوں نے میرا نام ملالہ رکھا‘ ہے۔

ملالہ کا نام پشتون قوم کی ایک بہادر خاتون ملالئی کی نسبت سے رکھا گیا تھا جس نے انیسویں صدی میں انگریزوں کے خلاف افغانستان کے جنگجوؤں کو منظم کیا تھا۔

جولائی میں ملالہ 18 سال کی ہوئیں اور حال ہی میں انہوں نے او لیول کے امتحان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے تقریب کے حاضرین کو بتایا کہ وہ عورتوں کے حقوق کے لیے دنیا کا سفر جاری رکھیں گی اور اس وقت کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں جب وہ بحفاظت پاکستان جا سکیں گی۔

XS
SM
MD
LG