رسائی کے لنکس

ملیریا ان بیماریوں میں سے ہے کہ جن سے احتیاط برت کر مکمل طور پر بچا جا سکتا ہے۔ لیکن، اگر یہ بیماری کسی کو ہو ہی جائے، تو بہترین علاج موجود ہونے کے باوجود مریض نہ صرف انتہائی خطرناک پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتا ہے، بلکہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے

ہفتے کو دنیا بھر میں ملیریا سے آگہی کا عالمی دن منایا گیا۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے آگہی کے مختلف پروگرام ہوئے، لیکن طبی ماہرین نے باضابطہ طور پر دن نہ منائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت عامہ سے متعلق حکومتی اداروں اور نجی شعبے کو اس بیماری سے آگہی پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔


کراچی کی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر، ڈاکٹر عادل فراز نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملیریا جیسی بیماری میں تو خاص طور پر احتیاط علاج سے بہتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملیریا ایک سادہ سی بیماری ہے، لیکن یہ انتہائی پیچیدہ اور جان لیوا روپ بھی اختیار کر سکتی ہے۔


ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ ملیریا ان بیماریوں میں سے ہے کہ جن سے احتیاط کر کے مکمل طور پر بچا جا سکتا ہے۔ لیکن، اگر یہ بیماری کسی کو ہو ہی جائے تو بہترین علاج موجود ہونے کے باوجود مریض نہ صرف انتہائی خطرناک پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتا ہے، بلکہ موت بھی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔


ڈاکٹر عادل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بیماریوں سے بچنے کے لئے احتیاط پہ کم توجہ دی جاتی ہے، حالانکہ اس پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں، اُن کا کہنا تھا کہ سب سے اہم احتیاط، صفائی ہے۔ جب انسان اپنی صفائی کا خیال رکھتا ہے تو اپنے ارد گرد بھی صفائی کا خیال رکھتا ہے اور یوں گندے پانی کو جمع ہونے سے روک کر، مچھروں کے کاٹنے سے بچاؤ کی جالی اور دواؤں کے استعمال سے ملیریا سے بچا جا سکتا ہے۔


ایک خاص قسم کی مادہ مچھر کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ملیریا کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ مستقبل کو سامنے رکھ کر سرمایہ کاری کر کہ ملیریا کو شکست دی جا سکتی ہے۔


عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ملیریا کے خلاف جنگ میں بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ لیکن، اب بھی اس بیماری سے دنیا بھر میں بہت سے لوگ متاثر ہوتے ہیں اور افریقہ میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے پانچ لاکھ بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملیریا سے بچاؤ اور اس کے علاج کے لئے ادویات اور ذرائع موجود ہیں۔ لیکن، ضرورت مند لوگوں تک انھیں پہنچانے کے لئے امداد کی ضرورت ہے۔


ملیریا سے آگہی کے عالمی دن کے عنوان سے مخصوص ویب سائٹ ورلڈ ملیریا ڈے کا کہنا ہے کہ دنیا کی آدھی آبادی کو ملیریا کا خطرہ ہے اور ان کے لئے تو ہر روز ہی ملیریا کا دن ہے اور اس لئے اس بیماری سے بچاؤ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جانے چاہئیں۔

XS
SM
MD
LG