رسائی کے لنکس

ملاوی: 74 سالہ صدر کی 54 برس کی خاتون سے شادی


فائل

فائل

’میں، پیٹر متھاریکا، گرترود ہینرینا ماسیکو کو بیوی کے طور پر اپنے قانونی ازدواج میں قبول کرتا ہوں۔۔۔ اور خدا کے حکم سے، اب ہمیں موت ہی الگ کر سکتی ہے‘

ملاوی کے نئے صدر، پیٹر متھاریکا نے ایک طویل عرصے کی اپنی گرل فرینڈ سے شادی رچا لی ہے۔ گرترود ماسیکو پارلیمان کی سابقہ رکن ہیں۔

مسٹر متھاریکا کی پہلی بیوی کا 30 برس قبل انتقال ہوگیا تھا، جب کہ ماسیکو اور اُن کے پہلے شوہر کی 10 برس قبل علیحدگی ہوگئی تھی۔

لامیک مسینا نے بلانتیر سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملاوی کے باشندوں نے ہفتے کے روز سرد موسم میں بلانتیر کی ایک چھوٹی کلیسا کے باہر جمع ہوئے، جہاں یہ شادی کی تقریب منعقد ہوئی۔

خاکستری رنگ کے سوٹ میں ملبوس74 سالہ صدر نے، پہلے شادی کی رسم کے کلمات ادا کیے۔

اُن کے کلمات تھے: ’میں، پیٹر متھاریکا، گرترود ہینرینا ماسیکو کو بیوی کے طور پر اپنے قانونی ازدواج میں قبول کرتا ہوں۔۔۔ اور خدا کے حکم سے، اب ہمیں موت ہی الگ کر سکتی ہے‘۔

ماسیکو کی طرف سے عہد کے رسمیہ کلمات ادا کیے جانے کے بعد، مسیحی کلیسا کے سرکاری عبادت گزار عملے کے فرد، ریورنڈ رابسن چمکوے زول نے دونوں کو شوہر اور بیوی قرار دینے کا اعلان کیا۔

صدر متھاریکا اور ماسیکو کے تعلقات 2009ء سے چلے آرہے ہیں۔

وہ سابق ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کی حکومت میں وزیر تعلیم تھے، جس کی قیادت اُن کے بھائی، آنجہانی صدر بنگو وا متھاریکا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل تک، 54 برس کی ماسیکو پارلیمان میں پارٹی کی رکن تھیں، اور مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں یہ نشست دوبارہ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔

ملاوی کے متعدد لوگوں نے اس شادی کا خیرمقدم کیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں صدر کی سماجی اور سیاسی زندگی پر خوش گوار اثرات مرتب ہوں گے۔

شادی کی رسومات کے انعقاد پر مامور خاتون نائب صدر، سالوس چلیما نے بتایا ہے کہ تقریب پر اندازاً 95000ڈالر خرچ ہوئے، جسے چاہنے والوں نے اپنی جیب سے ادا کیا۔
XS
SM
MD
LG