رسائی کے لنکس

2008ء کے انتخابات میں حزب مخالف کے اتحاد نے غیر معمولی نسشتیں حاصل کی تھیں اور ان انتخابات میں نیشنل فرنٹ پہلی مرتبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

ملائیشیا میں عام انتخابات پانچ مئی کو منعقد ہوں گے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ایک طویل عرصے سے ملک پر حکومت کرنے والے حکمران اتحاد کا اہم امتحان ہو گا۔

بدھ کو الیکشن کمیشن کے عہدیدار نے کہا ہے کہ انتخاباتی مہم کا آغاز 20 اپریل سے ہوگا۔ سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم نجیب رزاق کی طرف سے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ تحلیل کیے جانے کے اعلان کے بعد ہی سے ووٹروں سے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔

جناب رزاق کی جماعت نیشنل فرنٹ کولیشن تقریباً 56 سال سے اقتدار میں ہے جسے سابق نائب وزیراعظم انور ابراہیم کی قیادت میں تین جماعتی اتحاد کی طرف سے کڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

2008ء کے انتخابات میں حزب مخالف کے اتحاد نے غیر معمولی نسشتیں حاصل کی تھیں اور ان انتخابات میں نیشنل فرنٹ پہلی مرتبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

حکمران اتحاد نے اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور شہریوں کے حقوق آزادی کو مزید بڑھانے جیسی اصلاحات متعارف کروائیں۔

حزب مخالف نے حکومت پر بدعنوانی اور تحکمانہ زیادتوں کا الزام عائد کرتےہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آکر حکومت کی چند ایسی پالیسیوں کو ختم کردے گا جس سے مقامی ملائی نسل کو فائدہ ہوگا۔

ملائیشیا میں ایک کروڑ تین لاکھ سے زائد ہے اہل ووٹرز 12 ریاستوں سے پارلیمنٹ کی 222 نشستوں کے لیے نمائندے منتخب کریں گے۔
XS
SM
MD
LG