رسائی کے لنکس

ویتنام کے حکام کے مطابق چھ ہوائی جہاز اور سات کشتیوں کی مدد سے نشاندہی کیے گئے مقام کا جائزہ لیا گیا لیکن وہاں سے کچھ بھی نا ملا۔

ملائشیا کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تقریباً تین روز سے لاپتا مسافر طیارے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

سول ایوی ایشن کے سربراہ اظہر الدین عبد الرحمٰن نے پیر کو بتایا کہ تلاش کرنے والے اہلکاروں کو ہفتے کی صبح لاپتا ہونے والے بوئنگ 777 کا کوئی ایک ٹکڑا تک نہیں ملا۔ 239 افراد کو لے کر یہ طیارہ کوالالمپور سے بیجنگ کے لیے اڑا تھا کہ دو گھنٹے کے بعد ہی ریڈار سے غائب ہوگیا۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی اس نہج پر نہیں پہنچی کہ کہا جا سکے جن کے تحت طیارے کے اغواء یا ہوا میں تباہ ہونے سمیت کسی بھی امکان کو رد کیا جا سکے۔

ویتنام میں عہدیداروں نے بھی کہا ہے کہ اتوار کی شب تک تمام کوشش کے باوجود مسافر بردار طیارے کے ملبے کی نشاندہی نہیں ہو سکی اگرچہ کہ اس پہلے انہوں نے بتایا تھا کہ ملک کے جنوب مغربی ساحل سے 90 کلومیٹر دور ایک جزیرے کے قریب انہیں کچھ ملبے کے آثار دکھائی دیے تھے جو ممکنہ طور پر اس طیارے کے تھے۔

حکام کے مطابق چھ ہوائی جہاز اور سات کشتیوں کی مدد سے نشاندہی کیے گئے مقام کا جائزہ لیا گیا لیکن وہاں سے کچھ بھی نا ملا۔

لاپتا جہاز کی تحقیقات کرنے والے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ’ریڈار امیج‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاپتا ہونے سے پہلے طیارہ واپس مڑا، لیکن اس کی وضاحت نہیں کی جا سکی۔

ملائشیا کی فضائیہ نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ کوالالمپور سے بیجنگ جانے کے لیے طیارہ کس سمت کو مڑا۔

تھائی لینڈ کی پولیس نے کہا کہ وہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ چوری شدہ دو یورپی پاسپورٹس پر لاپتا ہونے والے جہاز پر سفر کے لیے تھائی لینڈ سے کس طرح بکنگ کی گئی تھی۔ جن دو افراد کے پاسپورٹ چوری ہوئے تھے وہ جہاز میں سوار نہیں تھے۔

ملائشیا نے دہشت گردی سے متعلق تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور امریکہ نے تعاون کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کی ایک ٹیم بھی بھیج دی ہے۔

ملائشیا کے وزیر برائے ذرائع آمدورفت حشام الدین حسین کا کہنا تھا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہے جو مشکوک سفری دستاویزات کے ساتھ اس طیارے میں سفر کر رہے تھے۔
XS
SM
MD
LG