رسائی کے لنکس

لاپتا طیارے کی کہانی شاید کبھی معلوم نہ ہو:پولیس


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پولیس کے سربراہ خالد ابوبکر کا کہنا تھا کہ تحقیقات کرنے والوں کو معلومات اکٹھا کرنے میں ابھی بھی مزید وقت درکار ہے۔

ملائیشیا پولیس کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ شاید حکام یہ کبھی نا جا سکیں کہ مسافر بردار طیارے کے غائب ہونے کی کیا وجوہات تھیں۔

ان کا یہ بیان ملائیشیا کے لاپتا طیارے کی تلاش چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس طیارے پر عملے سمیت 239 افراد سوار تھے اور یہ کوالالمپور سے بیجنگ کے لیے آٹھ مارچ کو پرواز کے کچھ دیر بعد ہی ریڈار سے غائب ہوگیا۔

بین الاقوامی سطح پر جنوبی بحر ہند میں طیارے کے ملبے کی تلاش اور ملائیشیا پولیس کی طرف سے تحقیقات ابھی تک بے سود ثابت ہوئی ہیں۔

پولیس کے سربراہ خالد ابوبکر کا کہنا تھا کہ تحقیقات کرنے والوں کو معلومات اکٹھا کرنے میں ابھی بھی مزید وقت درکار ہے اور ’’ہوسکتا ہے کہ تحقیق چلتی رہے اور چلتی ہی رہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پولیس اغوا، تباہ کاری اور اس طیارے میں سوار افراد کے ذاتی اور ذہنی مسائل کی وجہ سے اس واقعے کے رونما ہونے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تفتیش کار اب تک 170 انٹرویو کر چکے ہیں اور ابھی مزید کرنے ہوں گے۔

ملائیشیا کے عہدیدار اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ سمندر میں گرنے سے پہلے کسی نے جان بوجھ کر طیارے کی سمت تبدیل کی ہو گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG