رسائی کے لنکس

ملائیشیا: انتخابی اصلاحات کے حامیوں کے خلاف پولیس کی کارروائیاں


ملائیشیا: انتخابی اصلاحات کے حامیوں کے خلاف پولیس کی کارروائیاں

ملائیشیا: انتخابی اصلاحات کے حامیوں کے خلاف پولیس کی کارروائیاں

ملائیشیا میں حکام نے انتخابی اصلاحات کے حق میں آئندہ ماہ ہونے والی ایک ریلی کی حمایت کرنے کےالزام میں بدھ کو مزید 14 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

شمالی ریاست 'پیراک ' میں ہونے والی تازہ گرفتاریوں کے بعد گزشتہ ہفتے سے اب تک حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 100 ہوگئی ہے جنہیں 9 جولائی کو دارالحکومت کوالالمپور میں ہونے والی ایک ریلی کی مہم چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتارشدگان میں 'سوشلسٹ پارٹی آف ملائیشیا' کے 30 ارکان بھی شامل ہیں جنہیں ہفتہ کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتارشدگان کی بس سے ایسے پمفلٹس اور ٹی-شرٹس برآمد ہوئی تھیں جن پر ایک کالعدم کمیونسٹ جماعت کی حمایت میں تحریریں موجود تھیں۔

گرفتار شدگان پر ملائیشیا کی آئینی بادشاہت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

9 جولائی کی ریلی کا انعقاد حزبِ مخالف کی جماعتوں اور کارکنوں کے 'برسیہ' نامی اتحاد نے کیا ہے۔ مالے زبان کے اس لفظ کا مطلب "شفاف" ہے۔ مذکورہ اتحاد آئندہ سال ہونے والے ممکنہ قومی انتخابات سے قبل ووٹنگ کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

حکومت نے ریلی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے عوام کو اس میں شرکت سے باز رہنے کا انتباہ کیا ہے۔

اس سے قبل 2007ء میں بھی 'برسیہ' کی جانب سے ایسی ہی ایک ریلی میں 30 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی تھی جنہیں بعد ازاں پولیس نے آنسو گیس استعمال کرکے منتشر کردیا تھا۔

ملائیشیا کی حزبِ مخالف کے اتحاد نے 2008ء کے بعد سے خاصی پیش رفت کرتے ہوئے پارلیمان میں حکمران جماعت کی دو تہائی اکثریت کا خاتمہ کردیا ہے جبکہ کچھ ریاستوں میں اکثریت بھی حاصل کرلی ہے۔

XS
SM
MD
LG