رسائی کے لنکس

لاپتا طیارے کے ممکنہ ’ٹکڑوں‘ کی نشاندہی


ملائیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ حشام الدین

ملائیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ حشام الدین

موسم میں بہتری کے بعد چھ ملکوں کے سات فوجی طیارے اور پانچ سویلین طیاروں نے جنوبی بحر ہند میں ملائیشیا کے مسافر طیارے کی تلاش کے لیے پروازیں شروع کیں۔

ملائیشیا کا کہنا ہے کہ اُس کی فضائی کمپنی کے لاپتا طیار ے کے ممکنہ ملبے کی تلاش کے دوران حال میں سیٹیلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر کے ذریعے’122 ٹکڑوں‘ کی نشاندہی کی گئی ہے جو ممکنہ طور پر طیارے کے ملبے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

طیار ے کی تلاش کا کام بدھ کو دوبارہ شروع کیا گیا، جس میں چین، آسڑیلیا، امریکہ، جاپان ، جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ کے ملکوں کے 12 طیار ے اور کئی چھوٹے بحری جہاز آسٹریلیا کے مغرب میں 2500 کلومیٹر کے سمندری علاقے میں چھان بین کر رہے ہیں۔

ایک طرف ملائیشیا کی ایئرلائن کے طیارے کی تلاش جاری ہے تو دوسری طرف مبصرین کا کہنا ہے کہ طیارے کے بارے میں تحقیقات کے بعد شہری ہوا بازی کی سکیورٹی بڑھانے اور مواصلات کے نظام میں اصلاحات کے مطالبات سامنے آ سکتے ہیں۔

موسم میں بہتری کے بعد چھ ملکوں کے سات فوجی طیارے اور پانچ سویلین طیاروں نے جنوبی بحر ہند میں ملائیشیا کے مسافر طیارے کی تلاش کے لیے پروازیں شروع کیں۔

یہ طیارہ جس پر عملے اور مسافروں سمیت 239 افراد سوار تھے 8 مارچ کو ’لاپتا‘ ہو گیا تھا۔

آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا اور چین کے بحری جہازوں، جس میں چین کا برف میں تلاش کرنے والا جہاز بھی شامل ہے، نے پرتھ سے 2500 کلومیڑ دور مغرب میں 80،000 مربع کلومیڑ کے علاقے میں تلاش کا کام کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا کا ’ایچ ایم اے ایس سکسیس‘ بحری جہاز اس مقام پر طیار ے کے ممکنہ ملبے کی تلاش کر رہا ہے جس کی نشاندہی آسٹریلیا کے ایک طیارے نے دو روز قبل کی تھی۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں ایک بیان میں جہاز کو تلاش کرنے کی کوششوں میں ملائیشیا کا ساتھ دینے کے عزم کو دہرایا۔

ایبٹ نے پارلیمنٹ میں طیارے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے ایک تعزیتی قرار داد پیش کی اور اس موقع پر طیارے میں ہلاک ہونے والے آسٹریلوی شہریوں کے خاندان کے افراد پارلیمنٹ کے مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے۔
XS
SM
MD
LG