رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیا میں قیام امن، عالمی ادارہ کردار ادا کرے: ملیحہ


فائل

فائل

اسناد پیش کرنے کے موقعے پر، اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان و بھارت، دونوں جانب، اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کے اراکین کی تعداد بڑھائی جائے، تاکہ کنڑول لائن اور ورکنگ باوٴنڈری پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں کی موٴثر روک تھام ہو سکے

اقوام متحدہ میں پاکستان کی نئی مستقل مندوب، ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے عالمی ادارے سے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

اُنھوں نے یہ بات منگل کو سکریٹری جنرل، بان کی مون کو سفارتی اسناد پیش کرنے کی تقریب کے موقعے پر کہی۔

اس سلسلے میں، نئی سفیر نے پاکستان و بھارت کے درمیان مربوط مذاکرات کو جاری رکھنے کا ذکر کیا۔

اُنھوں نے اقوام متحدہ کے سکرٹری جنرل پر واضح کیا کہ ’جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال میں عالمی ادارے کی ذمہ داری ہے کہ خطے میں قیام امن اور استحکام کی کوششوں میں تیزی لانے کے حوالے سے اقدام کرے‘۔

انھوں نے پاکستان کے اس عزم سے آگاہ کیا کہ لائن آف کنڑول اور ورکنگ باوٴنڈری پر بھارت کے ساتھ موجودہ صورتحال کے باوجود، ’پاکستان دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتا‘۔

اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان و بھارت، دونوں جانب، اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کے اراکین کی تعداد بڑھائی جائے؛ اور تعیناتی کو مستحکم کیا جائے، تاکہ کنڑول لائن اور ورکنگ باوٴنڈری پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں کی موٴثر روک تھام ہو سکے۔

پاکستانی ذرائع کے مطابق، اس موقع پر، بان کی مون نے پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انھوں نے پاکستانی مندوب کو بتایا کہ سال رواں اقوام متحدہ کے لئے ’نہایت اہم ہے‘، کیونکہ، اس سال اہم اجلاس ہونے والاہے، جس میں 2015ء کے بعد کا ایجنڈہ برائے ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں ’اہم ترین فیصلے کئے جائیں گے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں پر مرتب ہوں گے‘۔

پاکستانی مندوب نے سکریٹری جنرل کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اقوام متحدہ میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا؛ اور دنیا کو درپیش مختلف چیلنجوں میں اور اقوام متحدہ کی اصلاح کے حوالے سے، مدد فراہم کرے گا۔

XS
SM
MD
LG