رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منگل کو مالے کی صورت حال پر، جہاں انقلاب برپا کرنے والے فوجی افسربدستور اقتدار پر اپنا قبضہ قائم رکھے ہوئے ہیں، ایک ہنگامی اجلاس منعقد کررہی ہے۔ جب کہ مغربی افریقی ممالک مالے کے خلاف سفارتی اور مالیاتی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مغربی افریقی ممالک کی اقتصادی کمیونٹی یعنی ایکوواس کے راہنماؤں نے پیر کے روز اپنی کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا کہ تمام رکن ممالک مالے کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کردیں گے اور علاقائی مرکزی بینک سے اس ملک میں سرمائے کی ترسیل روک دیں گے۔

منگل کے روز مالے کے دارالحکومت باماکو میں پٹرول پمپوں پر لوگوں کی لمبی قظاریں دیکھی گئیں جو اپنے ہاتھوں میں جیری کین اور پلاسٹک کے جگ لیے تیل کی خرید کے لیے آئے تھے۔

بہت سے لوگوں کا کہناہے کہ وہ اپنے پاس تیل کا ذخیرہ جمع کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ جلد ہی یہاں ختم ہوجائے گا۔

نائیجیریا کے سابق صدر اولوسیگن اوباساجو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ ایکوواس اس بحران کو حل کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کو چاہیے کہ وہ فوج کو اپنی بیرکوں میں لوٹنے پر مائل کرے، جس کے بعد ایک عبوری حکومت قائم ہو،اور وہ انتخابات کروا کر ملک کو جمہوریت کی راہ پر واپس لے جائے۔

باغی فوجیوں نے 22 مارچ کو صدر امادو تومانی تور پر یہ الزام لگاتے ہوئے وہ ملک کے شمال میں توریگ باغیوں کے مقابلے کے لیے فوج کو مناسب وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، ان سے اقتدار چھین لیا تھا۔

ادھر باغیوں نے جمعے کو ایک اور حملہ کرکے ان تین اہم شہروں پر قبضہ کرلیا جو فوج کے کنٹرول میں تھے۔

منگل کو اقوام متحدہ نے بتایا کہ شمالی مالے میں بدامنی کے باعث کم ازکم 20 ہزار افراد اپنا گھر بار چھوڑ کرچلے گئے ہیں اور ان میں سے نصف ہمسایہ ممالک برکینا فاسو اور مورنطانیہ میں پناہ حاصل کرناچاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG