رسائی کے لنکس

متوقع طور پر، مسٹر کیتا حکومت تشکیل دینے کے 60 دِنوں کے اندر اندر، ملک کے دور افتادہ شمالی علاقے، کدال میں طوراق کے مسلح علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا مشکل دور چلائیں گے

گذشتہ سال آنے والے انقلاب کے بعد ملک کے پہلے انتخابات میں کامیابی کے حصول پر، ابراہیم ابو بکر کیتا نے مالے کے نئے صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

بدھ کے روز دارالحکومت بماکو میں منعقدہ ایک مختصر تقریب میں مسٹر کیتا نے جمہوری پیش رفت کی حفاظت کرنے اور قومی وحدت کو فروغ دینے کا عہد کیا۔ نئے صدر نے بدعنوانی کا قلع قمع کرنے کا بھی وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے ذریعے اب کوئی امیر نہیں بن پائے گا۔

تقریب کے شرکا میں انتخابات میں مسٹر کیتا کے حریف، سومائلہ سزے اور سبک دوش ہونے والے عبوری راہنما، ڈاکنڈا ترور موجود تھے، جنھیں مسٹر کیتا نے ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود متحد رکھنے پر سلام پیش کیا۔

عہدہ سنبھالنے کی باضابطہ تقریب اِسی ماہ کے آخر میں منعقد ہوگی، جس میں عالمی سربراہان کی شرکت متوقع ہے۔

مسٹر کیتا وزیر اعظم اور قومی اسمبلی کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔ اُنھوں نے 77فی صد ووٹ لے کر، 11 اگست کو دوسرے مرحلے کے انتخابات جیتے تھے۔ اُن کی کامیابی مسلمان مذہبی راہنماؤں، فوج اور انتخابات کے پہلے مرحلے کے حریفوں کی حمایت سے حاصل ہوئی۔

مالے کو متحد رکھنا اُن کی ذمہ داری میں شامل ہے، جسے 20 ماہ سے جاری شورش درپیش رہی ہے، جس میں طوراق بغاوت، صدر امادو تورے کی برطرفی اور مسلمان انتہا پسندوں کی طرف سے ملک کے شمال میں قبضہ جمانا اور پھر فرانسسی قیادت میں اُن کے خلاف فوجی کارروائی شامل ہے۔

متوقع طور پر، مسٹر کیتا حکومت تشکیل دینے کے 60 دِنوں کے اندر اندر، ملک کے دور افتادہ شمالی علاقے، کدال میں طوراق کے مسلح علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا مشکل دور شروع کریں گے۔
XS
SM
MD
LG