رسائی کے لنکس

مالی میں اقتدار پر قبضہ کرنے والے فوجی کمانڈروں نے 22 سیاسی اور عسکری راہنماؤں کو قید سے رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ملک کی فوجی جنتا نے ان افراد کو رواں ہفتے حراست میں لیا تھا جس کی عالمی برادری نے مذمت کی تھی۔

دریں اثنا مالی کے پڑوسی ملک سینیگال کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عہدے سے برطرف کیے جانے والے مالی کے صدر امودو ٹومانی ٹورے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ خصوصی طیارے کے ذریعے سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار پہنچ رہے ہیں۔

قبل ازیں سینیگال کے صدر میکی سال نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے ہم منصب گزشتہ ماہ ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سے مالی کے دارالحکومت بماکو میں واقع سینیگال کے سفارت خانے میں پناہ گزین ہیں۔

یاد رہے کہ مالی کی افواج کے بعض دستوں نے 22 مارچ کو صدر طورے کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیاتھا۔ باغی فوجیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ اقدام ملک کے شمال میں جاری طوارق باغیوں کے خلاف کاروائی کے لیے حکومت کی جانب سے فوج کی ضروریات پوری نہ کرنے پہ کیا ہے۔

علاقائی ممالک کی اقتصادی تنظیم 'ایکواس' کی جانب سے باغی فوجی راہنماؤں پر کڑی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد مالی کی فوجی قیادت گزشتہ ہفتے ایک سول عبوری حکومت کے قیام پر رضامند ہوگئی تھی جو ملک میں نئے انتخابات کرائے گی۔

تنازع کے حل کے لیے جاری ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں صدر طورے نے عبوری حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے لیے 8 اپریل کو صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔

XS
SM
MD
LG