رسائی کے لنکس

وکیل صفائی کا موقف تھا کہ چونکہ اس مقدمے کے لیے پہلے ہی ایک انٹرا کورٹ اپیل دائر کی جاچکی ہے لہذا اس کی سماعت مکمل ہونے تک فرد جرم عائد نہ کی جائے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ملک کی ایک اہم کاروباری شخصیت ملک ریاض حسین پر توہین عدالت کے الزام میں فرد جرم عائد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو استغاثہ مقرر کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ملک ریاض کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی جون کے وسط میں اُس نیوز کانفرنس کے بعد شروع کی تھی جس میں اُنھوں نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ بالخصوص چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر کڑی تنقید اور الزامات لگائے تھے۔

عدالتِ عظمیٰ میں جمعرات کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل صفائی عبدالباسط نے دو رکنی بینچ سے استدعا کی کہ جب تک توہین عدالت کے اس مقدمے کے خلاف دائر اپیل کا فیصلہ نہیں کر لیا جاتا اُس وقت تک اُن کے موکل کے خلاف کوئی حکم صادر نا کیا جائے۔

لیکن بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے اُن کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے ملک ریاض پر توہین عدالت کے الزام میں فرد جرم عائد کرنے اور کمرہ عدالت میں موجود اٹارنی جنرل عرفان قادر کو اس مقدمے میں استغاثہ مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

اٹارنی جنرل نے مقدمے سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک ریاض کے جن الفاظ پر اُنھیں توہین عدالت کے الزامات کا سامنا ہے اُن کو مقدمے کی چارج شیٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ لیکن دو رکنی بینچ نے آئندہ سماعت 29 اگست تک ملوتی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام معاملات عدالتی کارروائی کے دوران واضح ہو جائیں گے۔

ملک ریاض کا الزام ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بڑے بیٹے ارسلان نے عدالتِ عظمیٰ میں زیر التویٰ مقدمات کے فیصلے اُن کے حق میں کروانے کی یقین دہانی کے بدلے مبینہ طور پر اُن سے کروڑوں روپے کے مالی فوائد حاصل کیے ہیں۔

لیکن ارسلان افتخار ان الزامات کو رد کرتے ہیں، البتہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر انسداد بدنوانی کے قومی ادارے ’نیب‘ نے حقائق جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں، اور اس ضمن میں چیف جسٹس کے صاحب زادے اور ملک ریاض بھی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

تاہم بعض ناقدین ارسلان افتخار کے معاملے میں سپریم کورت کے طرز عمل کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔

لیکن سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے ایک تحریری بیان میں اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ ٹیم میں شامل دو تفتیش کاروں کی متنازع حیثیت کی وجہ سے تحقیقات کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے۔

نجی رہائشی منصوبے بحریہ ٹاؤن کے روح رواں ملک ریاض پاکستان کی با اثر ترین شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں، جن کے ملکی سیاست میں مرکزی کرداروں بشمول صدر آصف علی زرداری اور عسکری عہدے داروں سے بھی گہرے روابط ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اگر توہین عدالت کے مقدمے کی کارروائی باضابطہ طور پر شروع ہوئی تو اس عمل کے دوران کئی دیگر شخصات بھی بے نقاب ہو سکتی ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG