رسائی کے لنکس

مسٹر مالکی نے جمعرات کے روز امریکی وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی، جس میں عراق کی سیاسی و سلامتی کی صورت حال، اور باہمی اسٹریٹجک تعاون کو وسعت دینے سے متعلق بات ہوئی

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ شدت پسندی کی لہر سے نمٹنے کے لیے اُسے مزید امداد درکار ہے۔

مسٹر مالکی نے جمعرات کے روز واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع چَک ہیگل اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی، جس میں اُنھوں نے عراق کی سیاسی اور سلامتی کی صورت حال، اور باہمی اسٹریٹجک تعاون کو وسعت دینے سے متعلق بات چیت کی۔

اس سے قبل، واشنگٹن میں اپنے خطاب میں، عراقی راہنما نے کہا کہ عراق میں القاعدہ اور النصرہ محاذ جیسی تنظیموں سے نبرد آزما ہونے کا معاملہ اُن کی حکومت کو باقی امور میں پیش رفت کے حصول کے سلسلے میں حائل ہو رہا ہے۔

اُن کے بقول، افسوس کی بات یہ ہے کہ جہاں عرب انقلابات نے کئی آمروں کی اکھاڑ پچھاڑ کی، لیکن بعد ازاں پیدا ہونے والے اس خلا کو مناسب طریقے سے پُر نہیں کیا گیا۔ اس لیے، القاعدہ اور دیگر تنظیموں کو اِس خلا کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا موقع ملا اور اُنھوں نے اپنے لیے خاصی جگہ بنا لی ہے۔

ایسے میں جہاں عراقی حکومت اپنے مسائل کا ذمہ دار دہشت گردی کو قرار دیتی ہے، تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ دہشت گردی سے بڑھ کر کارروائیاں جاری ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ تشدد کی کارروائیاں زیادہ تر فرقہ وارانہ نوعیت کی ہیں، جن کا سبب متعدد پیچیدہ عناصر ہیں، جن میں بغداد میں جاری سیاسی تعطل اور شام کے تنازع کے باعث پھیلی ہوئی القاعدہ کی سرگرمیاں ہیں۔

جمعرات کو مالکی نے پھر إِن اسباب کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ انسداد دہشت گردی کی حکمتِ عملی کو تقویت دینے کی غرض سے واشنگٹن آئے ہیں، ایک ایسے اتحادی کے ساتھ جو دہشت گردوں سے نبردآزما ہونے میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

اُن کے الفاظ میں، ہتھیاروں کے لحاظ سے، انسداد دہشت گردی کے کام کی مخصوص ضروریات ہیں۔ اِن کا تعلق ’ابراہمز‘ ٹینکس یا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، یا گولہ بارود یا ایف 16طیاروں سے نہیں ہے۔ اِس کے لیےخاص اسلحہ درکار ہے۔ قومی وحدت کو فروغ دینے کے لیے لوگوں کو متحرک کرنے اور سیاسی فورسز کو فروغ دینے کے لیے، ہمیں انٹیلی جنس اطلاعات کی ضرورت ہے، تاکہ ہم دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانوں، تخریبی کارروائی کی کمین گاہوں اور دہشت گرد گروہوں کو ہدف بنا سکیں۔

اس سےقبل، مسٹر مالکی نے عراق کے فضائی دفاع کو بڑھانےاور دیگر فوجی امداد دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے، متنبہ کیا تھا کہ اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر عمل درآمد کے لیے القاعدہ فرقہ وارانہ تفریق کا سہارا لے رہا ہے۔

جمعے کے روز، مسٹر مالکی وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوباما کے ساتھ بات کریں گے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عراق کی فوجی استعداد بڑھانے کے لیے مزید امداد طلب کریں گے۔

ایک اعلیٰ امریکی اہل کار نے بتایا ہے کہ ماضی میں رسد کی فراہمی میں تاخیر کے باوجود، اگلے برس عراق کو ایف 16جنگی جہاز فراہم کیے جائیں گے۔ حال ہی میں طیاروں کی خریداری کے سلسلے میں عراق 65 کروڑ ڈالر کی ادائگی کر چکا ہے۔
XS
SM
MD
LG