رسائی کے لنکس

 پاکستان میں غذائی قلت اربوں ڈالر ںقصان کا باعث بن رہی ہے: رپورٹ


فائل فوٹو

عالمی ادارہ خوراک یعنی 'ڈبلیو ایف پی' نے پاکستان کی منصوبہ بندی و ترقی کی وزارت کے ساتھ مل کر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس بارے میں اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور پاکستان حکومت کے سرکاری اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں غذائی قلت کی وجہ سے پیدا ہونے والے صحت کی مسائل کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال ساڑھے سات ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

عالمی ادارہ خوراک یعنی 'ڈبلیو ایف پی' نے پاکستان کی منصوبہ بندی و ترقی کی وزارت کے ساتھ مل کر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس بارے میں اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ 77 ہزار سے زائد بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اس لیے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ خود اور ان کی مائیں غذائی کمی کا شکار ہوتی ہیں۔

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال سے وابستہ ڈاکٹر وسیم خواجہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خوراک اور غذائیت میں کمی صحت عامہ کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

"ایک متوازن غذا اہم ہوتی ہے، ہر ایک فرد کی غذا اور توانائی کی ضرورت مختلف ہے، ۔۔۔ جب بھی غذا و خوراک کی کمی ہو گی یہ پورے (انسانی ) جسم کو متاثر کرتی ہے اور صحت کے مسائل کا باعث بنتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اگرچہ نو زائیدہ بچوں کے لیے ماں کا دودھ ایک اہم غذا ہے تاہم ان کے بقول اس کے ساتھ دودھ پلانے والی ماؤں کی اپنی غذائی ضروریات کا پورا ہونا بھی ضروری ہے۔

" ماؤں کا بچوں کو اپنا دودھ پلانا اہم ہے لیکن اس کے ساتھ ان کو اپنی غذا کو بھی بہتر رکھنا ضروری ہے۔ یہ نہیں کہ وہ صرف بچوں کو دودھ پلا رہی ہیں اور اپنی غذا کم لے رہی ہیں اس کی وجہ سے انہیں بھی نقصان ہو گا اور بچے کو بھی نقصان پہنچے گا۔ "

عالمی ادارہ خوراک کے پاکستان میں ڈپٹی نمائندے اسٹیفن گلنگ نے کہا کہ غذائیت کی کمی سے نا صرف بچے اور اس کی ماں کے لیے کئی طرح کے مسائل جنم لیتے ہے بلکہ یہ صورت حال ملک کے معاشی بوجھ میں بھی اضافے کا سبب بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غذائیت کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانا ممکن ہے تاہم اسٹیفن نے کہا کہ اس کے لیے سب کو مقامی سطح پر مل کر کام کرنا ہو گا۔

غذائیت کی کمی کی وجہ سے نا صرف انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ یہ ایک صحت مند افرادی قوت کی فراہمی کی راہ میں بھی ایک چیلنج ہے۔

ڈبلیو ایف پی کی ویب سائیٹ پر پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال کے ایک بیان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پائیدار ترقی اسی صورت ممکن ہے جب ہم غذا اور خوراک کی فراہمی کو یقنی بنائیں گے۔

ڈاکٹر وسیم خواجہ کہتے ہیں کہ جہاں عوام کی متوازن غذا تک رسائی ضروری ہے وہیں اس کے لیے عوامی شعور و آگاہی کو اجاگر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ لوگ اس کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے صحت کے مسائل سے بہتر طور پر نمٹ سکیں۔

XS
SM
MD
LG