رسائی کے لنکس

لیبیا طیارہ اغوا: ہائی جیکروں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا


مالٹا انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر اغوا کیے جانے والے طیارے سے مسافروں کو اتارا جا رہا ہے۔ 23 دسمبر 2016

لیبیا کی سرکاری فضائی کمپنی افریقیہ ائیر لائن کے طیارے کو جب اغوا کیا گیا تو وہ جنوب مشرقی شہر سبھا سے طرابلس کی اندرون ملک پرواز پر تھا۔

لیبیا کا طیارہ اغوا کر کے مالٹا پہنچانے والے والے ہائی جیکروں نے تمام مسافروں کو چھوڑنے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

مالٹا کے وزیر اعظم جوزف مسکاٹ نے اپنی ایک تازہ ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جمعے کے روز خود کو پولیس کے حوالے کرنے سے پہلے اغوا کاروں نے طیارے کے عملے کو بھی جانے کی اجازت دے دی۔

اغوا کاروں نے جہاز پر سوار 118 افراد میں سے 109 کو مالٹا کے ایئر پورٹ پر اترنے کے کچھ ہی دیر کے بعد رہا کر دیا تھا۔

لیبیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ طیارہ اغوا کرنے والے ہائی جیکر ملک کے سابق ڈکٹیٹر معمر قذافی کے وفادار تھے اور انہوں نے مالٹا کی حکومت سے سیاسی پناہ حاصل کرنے کی درخواست کی ہے ۔

وزیر خارجہ طاہر سیلا نے کہا کہ دونوں ہائی جیکر قذافی نواز سیاسی پارٹی قائم کرنا چاہتے تھے۔

اغوا کیا جانے والا طیارہ مالٹا اتارے جانے کے بعد مالٹا انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے لیے تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اس سے پہلے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ طیارے پر بظاہر دو ہائی جیکر موجود ہیں جنہوں نے ہینڈ گرنیڈز سے جہاز پر دھماکہ کی دھمکی دے کر اسے اغوا کیا۔

ایئر پورٹ پر اترنے کے کچھ ہی دیر کے بعد اغواکاروں کے عورتوں اور بچوں کو جانے کی اجازت دے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ باقی مسافروں کو بھی چھوڑ دیں گے لیکن پائلٹ کو جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مالٹا میں عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایئر پورٹ پر ہنگامی صورت حال سے نمٹنے والی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔

لیبیا کی سرکاری فضائی کمپنی افریقیہ ائیر لائن کے طیارے کو جب اغوا کیا گیا تو وہ جنوب مشرقی شہر سبھا سے طرابلس کی اندرون ملک پرواز پر تھا۔

اغوا کاروں نے اس کا رخ مالٹا کے بین الاقوامی ایئر پورٹ کی جانب موڑنے کا حکم دیا۔

اطلاعات کے مطابق طیارے پر 118 افراد سوار ہیں۔

مالٹا کے وزیر اعظم جوزف مسکاٹ نے ٹوئٹر پر اینے ایک پیغام میں کہا ہے کہ انہیں طیارے کے اغوا کے بارے میں بتایا گیا ہے اور ہم ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

XS
SM
MD
LG