رسائی کے لنکس

لیہ میں زہریلی مٹھائی سے ہلاکتیں، ایک اور اقبالی بیان سامنے آ گیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ابتدائی طور پر پولیس کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ مٹھائی میں زہریلے مواد کی موجودگی کا پتہ چلا ہے جبکہ بعد میں کیمیائی تجزیے کے بعد اس بات کی تصدیق کر دی گئی تھی کہ مٹھائی میں کیڑے مار دوا شامل تھی۔

پولیس نے کہا ہے کہ پنجاب کے ضلع لیہ کے ایک گاؤں میں زہریلی مٹھائی کھانے سے ہونے والی 30 ہلاکتوں کا معمہ حل ہو گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مٹھائی کی دکان کے مالک کے چھوٹے بھائی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کیٹرے مار دوا مٹھائی میں ملائی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق مٹھائی کی دکان کے مالک طارق محمود کے چھوٹے بھائی خالد محمود نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ اس کی اپنے بڑے بھائی کے ساتھ تلخ کلامی ہو گئی تھی جس کی اسے رنجش تھی اور اُس نے بدلہ لینے کے لیے مٹھائی کے سامان میں کیڑے مار دوا شامل کر دی۔

اگرچہ پولیس نے یہ کیس حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے مگر اس سے قبل بھی پولیس نے ایک اور شخص کی طرف سے مٹھائی میں کیڑے مار دوا شامل کرنے کے اقبالی بیان کا دعویٰ کیا تھا۔

گزشتہ ماہ ضلع لیہ کے ایک گاؤں میں ایک شخص نے اپنے پوتے کی پیدائش پر لوگوں میں مٹھائی تقسیم کی جسے کھانے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کی طبعیت بگڑنا شروع ہو گئی۔

اگرچہ اُنھیں لیہ اور ملتان کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا مگر اس دوران کئی افراد ہلاک ہو گئے جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مٹھائی کھانے سے اب تک 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ابتدائی طور پر پولیس کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ مٹھائی میں زہریلے مواد کی موجودگی کا پتہ چلا ہے جبکہ بعد میں کیمیائی تجزیے کے بعد اس بات کی تصدیق کر دی گئی تھی کہ مٹھائی میں کیڑے مار دوا شامل تھی۔

مٹھائی کی دکان کے ساتھ فصلوں کے لیے استعمال ہونے والی کیٹرے مار ادویات کی دکان واقع تھی جس کے باعث شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ زہریلا مواد ساتھ والی دکان سے آیا ہو گا۔

پولیس نے اس واقعے کے بعد تین افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

XS
SM
MD
LG