رسائی کے لنکس

سوات: بچوں کے جنسی استحصال کا ملزم گرفتار

  • عشرت سلیم

موجودہ کیس میں اگرچہ جنسی زیادتی اور جنسی مواد کی تیاری اور ترویج کے شواہد پولیس کے پاس موجود ہیں مگر اس مقدمے پر کارروائی پرانے قانون کے تحت کی جا رہی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مینگورہ میں مقامی پولیس نے مبینہ طور پر بچوں کے اغوا اور ان کے جنسی استحصال میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا ہے اور اُس شخص سےبچوں پر مبنی جنسی مواد برآمد کیا ہے۔

اس کیس کے تفتیشی افسر ڈی ایس پی صادق اکبر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مینگورہ پولیس اسٹیشن جبس بے جا، اغوا، غیر فطری عمل اور غیر قانونی کام کے لیے حبس بے جا میں رکھنے کے الزامات کے تحت ایک ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔

پولیس نے اورنگزیب نامی ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا مگر وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جبکہ اس کے ساتھی سجاد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق رواں ماہ چھ تاریخ کو اطلاع ملی تھی کہ مشتبہ شخص اورنگزیب چھپ کر اپنے ڈیرے پر واپس آیا جس کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کر ناصرف اسے گرفتار کر لیا بلکہ اس کی تحویل سے عبدالرحمٰن نامی ایک بچے کو بھی بازیاب کرا لیا جو 2014 سے لاپتا تھا۔

انہوں نے بتایا ملزم اورنگزیب نے دوران تفتیش بتایا کہ اس نے 14 سے 17 بچوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا جبکہ پولیس نے بچوں اور بڑوں سے جنسی بدسلوکی کی تصاویر اور وڈیوز بھی برآمد کی ہیں۔

پولیس کو وہ زنجیر بھی ملی ہے جس سے بچوں کو باندھا جاتا تھا۔

اورنگزیب کو بدھ کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔

گزشتہ سال پنجاب کے ضلع قصور میں ایک گاؤں میں بھی بچوں سے جنسی زیادتی کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا تھا اور معلوم ہوا تھا کہ بچوں پر مبنی سینکڑوں جنسی وڈیوز کو بنا کر پھیلایا گیا ہے۔

اس وقت بچوں پر مبنی جنسی مواد کی تیاری کا ملکی قانون میں کہیں ذکر نہیں تھا جس کے بعد بچوں کو جنسی زیادتی کی روک تھام اور جنسی مواد کو جرم قرار دینے کے لیے تعزیرات پاکستان میں ترامیم کی گئیں۔ تاہم ابھی اس بل پر صدر پاکستان نے دستخط نہیں کیے۔

گزشتہ ماہ لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قصور کیس کے دو ملزموں حسیم عامر اور فیضان کو انسداد دہشت گردی قانون کی دفعہ سات اور تعزیرات پاکستان کی متعدد شقوں کے تحت عمر قید کے علاوہ تین، تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

موجودہ کیس میں اگرچہ جنسی زیادتی اور جنسی مواد کی تیاری اور ترویج کے شواہد پولیس کے پاس موجود ہیں مگر اس مقدمے پر کارروائی پرانے قانون کے تحت کی جا رہی ہے۔

بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف کرنے والی تنظیم ساحل کے قانونی ماہر امتیاز احمد سومرو نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اکثر اوقات ایسے کیسوں میں پولیس کی جانب سے صحیح پیروی نہ ہونے کے باعث مجرموں کو مناسب سزا نہیں مل پاتی۔

سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصلے میں پولیس کو واضح ہدایات دی گئیں تھیں کہ بچوں سے زیادتی کے کیسوں پر کیسے کارروائی کی مگر اس فیصلے پر کم ہی عمل کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو ایسے کیسوں سے نمٹنے کے لیے اس فیصلے کی روشنی میں خصوصی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے اور اس سلسلے میں متعدد اقدامات کر چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG