رسائی کے لنکس

افغانستان: فوجی اڈے میں فائرنگ سے امریکی جنرل ہلاک


کابل کے قریب، برطانیہ کی فوجی تربیت کی اکیڈمی

کابل کے قریب، برطانیہ کی فوجی تربیت کی اکیڈمی

بین الاقوامی افواج نے ’چند تفصیل‘ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوٹنگ میں افغان اور بین الاقوامی افواج دونوں ملوث ہیں، اور یہ کہ یہ واقع کابل میں ’مارشل فہیم نیشنل ڈفنس یونیورسٹی‘ میں پیش آیا

ایک شخص، جس نے افغان فوج کی وردی پہن رکھی تھی، منگل کے روز گولیاں چلادیں جس واقع میں ایک امریکی جنرل ہلاک جب کہ متعدد دیگر امریکی اور بین الاقوامی فوجی زخمی ہوئے، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی افواج کے کسی اہل کار کی طرف سے ’تنصیب کے اندر کیاجانے والا‘ یہ ایک تازہ ترین واقعہ ہے۔

پینٹاگان کے پریس سکریٹری، ریئر ایڈمرل جان کِربی نے واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک امریکی جنرل ہلاک ہوا۔ تاہم، اُنھوں نے افسر کا نام نہیں بتایا۔

کِربی کے الفاظ میں: ’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ہلاک شدگان میں ایک امریکی جنرل تھا‘۔

امریکی میجر جنرل، اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے امریکی اہل کاروں میں، اعلیٰ ترین عہدے دار تھا۔ اطلاعات کے مطابق، اُن پر نزدیک سے گولیاں چلائی گئیں۔

کِربی نے بتایا کہ کابل کی ’مارشل فہیم نیشنل ڈفنس یونیورسٹی‘ میں کسی سینئر عہدے دار کا یہ عام رواجی دورہ تھا۔

زخمی ہونے والوں میں افغانستان میں تعینات سلامتی سے متعلق بین الاقوامی افواج کےکئی دیگر اہل کار شامل ہیں، جن میں سے ایک جرمن برگیڈیئر جنرل ہیں۔

اِساف نے تصدیق کی ہے کہ اُن کا ایک اہل کار ہلاک ہوا۔ تاہم، شوٹنگ کے واقعے کی مختصر تفصیل جاری کی گئی ہیں۔

ایک امریکی جنرل کی ہلاکت کے علاوہ، امریکی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ دیگر 15 بین الاقوامی فوجی زخمی ہوئے، اور یہ کہ زخمیوں میں امریکی بھی شامل ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ حملہ آور، بقول اُس کے، ’ایک دہشت گرد‘ تھا، جس نے افغان فوج کی وردی پہن رکھی تھی، جسے ہلاک کیا گیا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے شوٹنگ کے اِس واقع کی مذمت کی ہے اور ہلاک ہونے والوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

پچھلے ہفتے (یکم اگست کو) افغانستان میں امریکہ کے 30600فوجی تعینات تھے، جب کہ دیگر اتحادی ملکوں کے مزید 17100 فوجی موجود ہیں۔ اس وقت،افغان فوج کی مجموعی تعداد 335000ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران، درجنوں ایسے واقعات ہوئے ہیں جِن میں افغان افواج نے غیر ملکی لڑاکوں پر گولی چلائی ہے، جن میں بیسیوں اہل کار ہلاک ہوئے ہیں، جن کا تعلق امریکہ اور دیگر افواج سے ہے، جس کے نتیجے میں مشترکہ گشت کے کام میں بداعتمادی بڑھی ہے۔

ماضی میں، طالبان شدت پسندوں نے اِن حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم، زیادہ تر واقعات ذاتی اور ثقافتی غلط فہمی کی بنیاد پر واقع ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG