رسائی کے لنکس

بے مثال آواز کے جادوگر مناڈے چل بسے


منا ڈے ایسی آواز کے مالک تھے جس کی نظیر مشکل سے ملتی ہے۔ وہ انڈین کلاسیکل میوزک میں نئی قسم کے موجد ہونے کے علاوہ اپنی طرز گائیگی میں یکتا تھے۔ وہ سات زبانوں میں گانے کا ہنر جانتے تھے۔

بالی وُوڈ فلموں کے لیجنڈری گلوکار منا ڈے جن کی آواز کے سحر میں دنیا عرصے تک ڈوبی رہی، اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ 94سالہ منا ڈے پچھلے پانچ مہینے سے بنگلور کے ایک اسپتال میں زیر ِعلاج تھے۔ انہیں سانس اور گردوں کا مرض تھا لیکن ان کی موت ہارٹ فیل ہو جانے کے سبب جمعرات کی صبح تین بجکر 50منٹ پر ہوئی۔

خاندانی ذرائع کے مطابق موت کے وقت ان کی بیٹی سشمیتا اور داماد جن رنجن ان کے سرہانے موجود تھے۔ منا ڈے کی دوبیٹیاں تھیں۔ انکی دوسری بیٹی امریکہ میں مقیم ہے۔

دادا صاحب پھالکے ایوارڈ یافتہ سنگر مناڈے یکم جنوری 1919ء میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں گانے کا شوق شروع ہی سے تھا۔ کالج کے دنوں میں بھی وہ اپنے دوستوں کو خوب گانے سناتے تھے۔

ان کے ایک قریبی عزیز کرشنا چندرا ڈے نے گائیکی کی ابتدائی تعلیم دی لیکن گانے کی اصل رموز انہیں استاد امان علی خان اور استاد عبدالرحٰمن خان سے سیکھنے کو ملے۔

کرشنا چندرا کے ساتھ ہی سن 1942ء میں انہوں نے ممبئی کا پہلا سفر کیا ۔ یہاں آکر انہوں نے چندرا کے معاون کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا۔ انہی دنوں ان کی ملاقات اس وقت کی ایک اور عظیم شخصیت میوزک کمپوزر سچن دیو برمن سے ہوئی۔

انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک بار منا ڈے نے اپنے سپر ہٹ میوزیکل ہٹ ’سر نا سجے ۔۔کیا گاؤں میں۔۔۔‘ کی تیاری کے دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ، ’اس گیت کو میری آواز میں ریکارڈ کرنے پر بہت سے اعتراضات کئے گئے تھے لیکن میوزک کمپوزر شنکر جے کشن بضد تھے کہ گانا میں ہی گاوٴں گا لہذا گانے کی دھن میری آواز کو ذہن میں رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی۔ اس گانے نے وہ شہرت حاصل کی کہ جو لوگ مجھے نہیں بھی جانتے تھے وہ میرے دیوانے ہوگئے۔ اس احسان کے لئے میں شنکر کا ہمیشہ مشکور رہوں گا۔‘

سن 1943 میں منا ڈے نے فلم ’تمنا‘ سے بطور پلے بیک سنگر اپنا کریئر شروع کیا۔ اس گانے نے راتوں رات شہرت حاصل کی۔ پھر تو مناڈے اپنے ہم عصروں کو پیچھے چھوڑتے چلے گئے۔

مناڈے کولکتہ میں پیدا ہوئے تھے لیکن انہوں نے عمر کے پچاس سے زائد سال ممبئی میں بسر کئے جبکہ باقی عمر بنگلور میں گزری۔

مناڈے نے کیرالا کی رہنے والی لڑکی سلوچنا کو اپنا جیون ساتھی چنا لیکن 2012ء میں موت نے سلوچنا کا ہاتھ ان سے چھڑا لیا۔

مناڈے سات زبانوں میں گانے کا ہنر جانتے تھے۔ انہوں نے تین ہزار پانچ سو گانوں کو اپنی آواز دی۔ ان گانوں میں بنگالی، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، کنڑ اور آسامی زبانوں کے گانے بھی شامل ہیں۔

منا ڈے ایسی آواز کے مالک تھے جس کی نظیر شاذ و نادرہی کہیں ملتی ہے۔ وہ انڈین کلاسیکل میوزک میں نئی قسم کے موجد تھے۔ وہ اپنی طرز گائیگی میں یکتا اور ان کے گائے ہوئے ناقابل فراموش گیت ہندی سنیما کا سنہری دور ہے۔

وہ سن 1950ء سے 1970ء تک محمد رفیع، مکیش اور کشور کمارکے بعد ہندی میوزک انڈسٹری کے چوتھے اور آخری ستون تھے۔ ان کا فنی کیرئیر پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے ۔انہوں نے سن 1991ء میں فلم ’پرہار‘ کے لئے آخری مرتبہ پلے بیک سنگنگ کی تھی۔

مناڈے نے جس دور میں پلے بیک سنگنگ کا اغاز کیا وہ محمد رفیع، مکیش اور کشور کا سنہرا زمانہ تھا لیکن مناڈے نے اپنی منفرد آواز کی بدولت اپنے لئے فلم انڈسٹری میں جگہ بنائی۔

وہ پیچیدہ راگوں پر مشتمل گانے آسانی سے گانے کا ملکہ رکھتے تھے، ان کا یہی خاصا انہیں دوسرے ہم عصر گلوکاروں سے جدا رکھتا تھا۔ ان کا یہ انداز اس دور کے بہت سے دوسرے سنگرز نے بھی اپنانے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی ان کے مقابلے پر نہ آسکا۔

شنکر جے کشن کو مناڈے بہت پسند تھے انہی کے کہنے پر منا ڈے کو راج کپور کی فلموں ’آوارہ‘، ’شری 420‘ اور ’چوری چوری‘ میں گانے کا موقع ملا۔

راج کپور پر پکچرائز ہونے والے بہت سے گانے مناڈے کی ہی آواز میں ریکارڈ کئے گئے مثلاً ’دل کا حال سنے دل والا‘، ’پیار ہوا اقرار ہوا‘، ’آجا صنم مدھرچاندی۔۔‘ اور ’اے بھائی ذرا دیکھ کے چلو‘ یہ تمام گانے اس دور کے سپرہٹ گیت تو ثابت ہوئے ہی آج بھی انہیں بہت ذوق و شوق سے سنا جاتا ہے۔ انہی گیتوں نے مناڈے کو لازوال پہچان دی۔

مناڈے نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب بھی تحریر کی ہے جس کا نام ہے ’میموریز کم الائیو‘ یہ دراصل ان کی خود نوشت ہے۔ انگریزی کے علاوہ ہندی میں بھی اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔

اپنی آواز کی بدولت ہی انہیں ’نیشنل سنگر‘، ’پدم شری‘، ’پدھما بھوشن‘ اور ’دادا صاحب پھالکے‘ جیسے بڑے ایوارڈز ملے۔ انہوں نے آج کے دور کے سب سے بڑے فنکار امیتابھ بچن کے والد اور بھارت کے مشہور شاعر ہری ونش رائے بچن کی شہرہ آفاق نظم ’مدھو شالا‘ بھی اپنی آواز میں گائی۔

مناڈے کا گایا ہوا فلم ’آنند‘ کا گانا ’زندگی کیسی ہے پہیلی‘ آج بھی جہاں کہیں بجتا ہے لوگ بے ساختہ اسے گنگنانے لگتے ہیں۔ مناڈے کا یہ گیت انہیں گلوکاری کی دنیا میں امر کردینے کے لئے کافی ہے۔

مناڈے نے ایسے سال اس دنیا کو خیرباد کہا ہے جب ہندی سنیما کو 100 برس مکمل ہوئے ہیں۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ہندی میوزک اور سنگنگ کا پورا ایک دور، جو آج سمٹ گیا ہے۔۔۔ لیکن منا ڈے اپنے گیتوں اور آواز کے سہارے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

مناڈے کے گائے ہوئے کچھ شہرہ آفاق گانوں کے مکھڑے
۔ پوچھو نہ کیسے میں نے رین بتائی۔۔
۔ اے میری زوہرجبیں۔۔۔
۔لاگا چنری میں داغ ۔۔۔۔
۔پیار ہوا اقرار ہوا۔۔۔
۔اے میرے پیارے وطن ، اے میرے بچھڑے چمن
۔ایک چترنار کرکے سنگھار
۔تو پیارکا ساگر ہے
۔ آجا صنم مددھر چاندی میں ہم
۔ یہ رات بیگھی بیگھی ، یہ مست ہوائیں۔۔۔
۔قسمیں وعدے نبھائیں گے ہم ۔۔
۔ یاری ہے ایمان میرایار میری زندگی۔۔

مناڈے نے اپنے دور کے تقریباً سبھی بڑے سنگرز کے ساتھ گانے گاہیں جن میں محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے اور کشور کمار سرفہرست ہیں۔ سنگرز کے علاوہ وہ اپنے دور کے ہر میوزک کمپوزر کے ساتھ بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے مثلا ً آر ڈی برمن، ایس ڈی برمن، انیل بسواس، روشن ، سلیل چوہدری، مدن موہن اور این سی راما چندرا۔
XS
SM
MD
LG