رسائی کے لنکس

’میں معذرت خواہ ہوں۔ میں نے لوگوں کی دل آزاری کی۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ میں نے امریکہ کو نقصان پہنچایا‘

امریکی فوجی اور سزا یافتہ جاسوس بریڈلی میننگ نے ’وِکی لیکز‘ کے رازداری کے خلاف گروپ کو سرکاری خفیہ دستاویزات فراہم کرنے پر فوجی عدالت سے معافی مانگ لی ہے۔

بدھ کے روز کورٹ مارشل میں سزا سنائے جانے کے مرحلے پر بولتے ہوئے، میننگ نے کہا کہ، ’میں معذرت خواہ ہوں۔ میں نے لوگوں کی دل آزاری کی۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ میں نے امریکہ کو نقصان پہنچایا‘۔

گذشتہ ماہ، ایک فوجی جج نے 25برس عمر کے میننگ کو 700000خفیہ سرکاری دستاویزات و ِکی لیکز کو فراہم کرنے کے جرم میں 21الزامات میں قصور وار ٹھہرایا۔ اِن دستاویزات کی تشہیر عالمی میڈیا میں کی گئی۔

تاہم، جج نے کہا کہ اُن کے خلاف ’دشمن کی اعانت‘ کا الزام ثابت نہیں ہوا، جِس کے تحت اُنھیں ضمانت کے بغیر عمر قید کی سزا ہو سکتی تھی۔

اب بھی اُنھیں 90سال قید کی سزا بھگتنی ہے۔

بدھ کے روز میننگ نےاِس بات پر معذرت کی کہ، بقول اُن کے، ’میرے کام کے غیر متوقع نتائج برآمد ہوئے‘۔

سکیورٹی کی خلاف ورزی کے الزام میں 2010ء سے حراست میں رہنےکی مدت کو، میننگ نے ’سیکھنے کا تجربہ‘ قرار دیا۔
XS
SM
MD
LG