رسائی کے لنکس

دو نشستوں والے جے ایف 17 بی طیاروں کی تیاری شروع


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستانی فضائیہ کے ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ چین کے علاقے چینگڈو میں نئے طیارے بنانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔

پاکستان فضائیہ نے کہا ہے کہ چین کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر کے نئے ماڈل کی تیاری کا عمل شروع ہو گیا ہے جس کے بعد دو نشستوں والے جے ایف 17 تھنڈر بی طیارے اپریل 2017ء میں پاکستانی فضائیہ کے بیٹرے میں شامل ہو جائیں گے۔

پاکستانی فضائیہ کے ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ چین کے علاقے چینگڈو میں نئے طیارے بنانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔

بیان میں کہا گیا کہ دو نشتوں والا جے ایف 17 تھنڈر بی طیارہ ناصرف تربیت کے لیے استعمال ہو سکے گا بلکہ اس سے فضائیہ کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہو گا۔

جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی چین کے اشتراک سے پاکستان میں تیاری کے بعد پاکستان فضائیہ میں ان طیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ مستقبل میں پرانے جہازوں کی جگہ بھی انھی طیاروں کو فضائی بیٹرے میں شامل کیا جائے گا۔

پاکستان اور چین کے اشتراک سے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا منصوبہ نوے کی دہائی میں چین میں شروع کیا گیا تھا اور بعد میں دونوں ملکوں کے تعاون سے ان لڑاکا طیاروں کی تیاری پاکستان میں بھی شروع کی گئی۔

ریٹائرڈ ائیر مارشل شاہد لطیف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اب تک جے ایف 17 طیارے میں صرف ایک ہی پائلٹ کے سوار ہونے کی گنجائش تھی۔

’’اس کا دو نشستتوں والا ماڈل موجود نہیں تھا، جس کی کمی محسوس کی جا رہی تھی۔ اس کا دو نشستوں والا ماڈل کافی عرصے سے تیار تھا اب اس کی منظوری دے گئی ہے اور اس کی تیاری کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے اور اب دو نشستوں والے بہت سارے جہاز بنیں گے اور پاکستان ان کو اپنے ٹریننگ اسکوڈرن میں شامل کرے گا۔ اپنی صلاحیت کے حوالے سے یہ کوئی مختلف جہاز نہیں ہو گا لیکن اس میں دو کاک پٹ ہوں گے تاکہ ان میں دو پائلٹ بیٹھ سکیں۔‘‘

پاکستان ماضی میں اپنی فضائی فورس کی دفاعی ضروریات کے لیے امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک پر بھی انحصار کرتا رہا ہے لیکن اب اس کا چین پر انحصار بڑھتا جا رہا۔

تاہم دفاعی شعبے میں پاکستان کا امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک سے اب بھی تعاون جاری ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کو 8 ایف 16 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔ پاکستانی فضائیہ میں پہلے بھی ایف 16 لڑاکا طیارے شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG