رسائی کے لنکس

بھارت: ماؤ باغیوں کے حملے میں 14 پولیس اہلکار ہلاک


فائل

فائل

حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ریزرو پولیس کے بعض اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔

بھارت کی ایک مشرقی ریاست میں ماؤ نواز باغیوں کے حملے میں کم از کم 14 پولیس اہلکار ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق واقعہ ریاست چھتیس گڑھ کے دور دراز ضلعے سکھما کے گھنے جنگل میں پیر کو اس وقت پیش آیا جب وہاں سینٹرل ریزو پولیس فورس کا ایک دستہ باغیوں کی تلاش میں مصروف تھا۔

چھتیس گڑھ کے وزیرِاعلیٰ رامن سنگھ نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ پولیس کے دستوں کو علاقے میں سرگرم باغیوں کی سرکوبی کے لیے بھیجا گیا تھا جن میں سے ایک دستے پر باغیوں نے گھات لگا کر حملہ کیا۔

وزیرِاعلیٰ کے مطابق حملے کے بعد ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں اور زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ریاست کے دارالحکومت رائے پور منتقل کردیا گیا ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے۔

حکام کے مطابق مرنے والوں میں ریزرو پولیس کے بعض اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔

رامن سنگھ نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ انہوں نے حملے کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی اور وزیرِداخلہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور انہیں واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ کمیونسٹ نظریات کےحامل مائو نواز باغی - جنہیں مقامی افراد نکسل باڑی یا نکسلائٹ بھی کہتے ہیں - بھارت کی 20 سے زائد مشرقی اور وسطی ریاستوں میں سرگرم ہیں اور ان کے زیرِ اثر بیشتر علاقوں کا شمار بھارت کے پسماندہ ترین حصوں میں ہوتا ہے۔

نکسل باڑیوں کی اکثریت بھارت کے غریب ترین طبقات پر مشتمل ہے جن کا موقف ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے غریب کسانوں کی زمینیں اور معدنی وسائل ہتھیانے کے خلاف اور قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔

بھارت میں نکسل باڑیوں کی یہ تحریک 1960ءکی دہائی سے جاری ہے جس کے دوران اب تک ہزاروں عام شہری اور پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ماؤ نواز باغی جنگجووں کی کل تعداد سات ہزار کے لگ بھگ ہے اور وہ بھارت کے کل 630 میں سے ایک تہائی اضلاع میں سرگرم ہیں۔

بھارتی حکومت مائو باغیوں کو اپنی سلامتی کو لاحق سب سے بڑا داخلی خطرہ قرار دیتی ہے اور حکام باغیوں کا زور توڑنے کے لیے پولیس کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ان کے زیرِاثر علاقوں میں غربت اور پسماندگی دور کرنے کی کوششوں پر بھی زور دیتے آئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG