رسائی کے لنکس

جیوری نے ’جرم کی سنگینی اور سزا میں تخفیف کا جواز پیدا کرنے والے حالات‘ کو پرکھا، ’اور اس متفقہ نتیجے پر پہنچی ہے کہ سارنیف کو موت کی سزا دی جانی چاہیئے‘۔

مقدمے کی سماعت کرنے والی جیوری نے دو برس قبل بوسٹن میراتھن ریس کی اختتامی لائن پر دو بم حملے کرنے والے، زوخار سارنیف کو موت کی سزا سنائی ہے۔

ان دھماکوں میں تین افراد ہلاک، جب کہ 264 زخمی ہوئے تھے۔

سات مرد اور پانچ خواتین پر مشتمل عدالت نے تین روز تک، 14 گھنٹوں سے زائد مشاورت کے بعد، جمعے کی شام بوسٹن میں اپنا فیصلہ سنایا۔

باضابطہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ جیوری نے ’جرم کی سنگینی اور سزا میں تخفیف کا جواز پیدا کرنے والے حالات‘ کو پرکھا، ’اور اس متفقہ نتیجے پر پہنچی ہے کہ سارنیف کو موت کی سزا دی جانی چاہیئے‘۔

زوخار سارنیف کے اس مقدمے میں موت کی سزا سنائے جانے کے لیے لازم تھا کہ جیوری کسی متفقہ فیصلے پر پہنچے، وگرنہ اُسے بغیر ضمانت کے عمر قید کی سزا ہونی تھی۔

گزشتہ ماہ زوخار کو سارے 30 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جن میں سے 17 شقوں کی رو سے اسے موت کی سزا کا امکان تھا، جب کہ اِن میں سے کچھ شقوں میں واضح طور پر موت کی سزا کے لیے کہا گیا تھا۔

’وائس آف امریکہ‘ کی فاطمہ تلیسوا نے کمرہٴ عدالت سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جیوری کے چند ارکان رو پڑے، جب کہ زوخار سارنیف نے اپنا سر ڈھانپ لیا۔

فیصلے کے بعد ایک بیان میں امریکی اٹارنی جنرل لوریتا لِنچ نے زوخار پر ’بہیمانہ طور پر اور سنگ دلی کے ساتھ‘ دہشت گرد حملہ کرنے کا الزام لگایا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی فیصلہ ہو، متاثرین کے پیاروں کو واپس نہیں لایا جا سکتا، نہ ہی شدید زخمیوں کے جسم یا دماغ پر مرتب ہونے والے اثرات کو کسی طور پر کم کیا جا سکتا ہے‘۔

تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ اس ’خوفناک جرم‘ کی درست سزا سوائے موت کے اور کچھ ہو نہیں سکتی اور اِس توقع کا اظہار کیا کہ مقدمے کے اعلان سے متاثرہ خاندانوں کی کچھ تشفی ہو گی۔

اِس سے قبل موصولہ اطلاع میں عدالتی اہل کاروں کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ بوسٹن میراتھن ریس بم حملوں کے مقدمے کی جیوری نے ’فیصلہ کر لیا ہے‘ آیا زوخار سارنیف کو موت کی سزا دی جائے یا عمر قید۔ الزام ثابت ہونے پر، اُن کو پہلے ہی مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جیوری نے یہ فیصلہ مقدمے میں سزا کے تمام پہلوؤں پر تین دِن سے جاری مشاورت کے بعد کیا ہے، جسے جمعے کی شام عدالت کے روبرو پڑھ کر سنایا جانا باقی تھا۔ یہ بات بین الاقوامی خبر رساں ادارے، رائٹرز نے مقدمے کی کارروائی پر بوسٹن سے اپنی رپورٹ میں بتائی۔

اس سے قبل کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مقدمے میں اس بات پر تفصیلی غور و غوض جمعے کے روز، متواتر تیسرے دِن بھی جاری رہا۔

دہشت گردی کے اس مقدمے میں بوسٹن کی جیوری نے بدھ سے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا، جس سے قبل استغاثہ اور مجرم کے وکلا نے سزا کے مرحلے کے دوران، اپنے حتمی دلائل دیے۔

استغاثہ نے وکلائے صفائی کے دلائل کو مسترد کیا کہ زوخار اپنے انتہا پسند بڑے بھائی تمرلان کے زیر اثر تھا، جو پولیس سے لڑائی کے دوران ہلاک ہوا۔


اُنھوں نے بتایا کہ حالانکہ میراتھن بم حملوں کے دوران، زوخار سارنیف محض 19 برس کا تھا، وہ اتنے کم عمر نہیں تھے کہ وہ اپنے طور پر برے بھلے کی تمیز نہ کر سکیں، جب کہ وہ امریکہ سے عراق اور افغانستان میں جنگوں کا بدلہ لینے کے خواہاں تھے۔

XS
SM
MD
LG