رسائی کے لنکس

اسقاط حمل کے مخالفین کی تحریک میں نائب صدر کی شرکت


واشنگٹن میں اسقاط حمل کے خلاف ہونے والے مارچ میں شامل خوااتین بینر اٹھا ئے ہوئے ہیں۔ 27 جنوری 2017

کچھ ہی دِنوں کے اندر اندر اِن مظاہروں کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ملک میں متنازع ترین معاملات پر لوگ آواز بلند کر رہے ہیں۔

اسقاط حمل کے مخالف سر گرم کارکنوں کی یہ سالانہ مارچ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف تھی۔ اسقاط حمل کو قانونی طور پر جائز قرار دینے کے سپریم کورٹ کے1973 کے فیصلے کے خلاف ہزاروں افراد پر مشتمل اس مظاہر ے کو صدر ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کی جانب سے بھر پور حمایت حاصل ہوئی۔ ٹرمپ کی سینیر مشیرکیلیان کونوےنے کہا ۔ یہ ایک نیا دن ہے زندگی کے لیے ایک نیا سویرا۔

ایوانِ نمائندگان کی عمارت کے سامنے منعقدہ احتجاجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، نائب صدر مائیک پینس نے، جو ایک طویل عرصے سے اسقاطِ حمل کے مخالف رہے ہیں، کہا کہ ’’زندگی کی جیت‘‘ ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ کیوں کہ آپ سب اور ملک بھر میں ہزاروں دوسرے مارچ کر رہے ہیں ، اس لیے امریکہ میں زندگی ایک بار پھر جیت رہی ہے۔

مارک پنس کا ریلی سے خطاب کسی بھی ریلی میں کسی عہدے پر موجود نائب صدر کی جانب سے پہلا خطاب تھا جس سے مظاہرین کاحوصلہ بڑھاجو عشروں سے مارچ کر رہے ہیں ۔ مارچ فار لائف کو ملک بھر کے اسکولوں کے بچوں نے ہمیشہ اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک طالبہ کلوے سمتھ نے کہا کہ اس کے باوجود کہ وہ ٹرمپ کی کوئی حامی نہیں ہیں پینس نے ان کی دوسری مارچ پر انہیں ایک مختلف إحساس سے ہمکنار کیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ وہ یہاںپر ہماری مدد کےلیے موجود ہیں۔میرا خیال ہے کہ وہ انتہائی نیک نیتی کے ساتھ مدد کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں خواتین کی مارچ میں شرکت کرنے والی ایک خاتون تھلما شیلٹن نے بتایا کہ اس مارچ میں شرکت نے اس کے خیالات کو تبدیل کر دیا ۔

جب مجھے یہ بتایا گیا کہ کیوں کہ میں لائف کی حامی تھی اس لیے میں ان کے لیے قابل قبول نہیں تھی تو مجھے لگا کہ میں وہ خواتین کی مارچ نہیں تھی وہ خواتین کی مارچ کے روپ میں ہلری کی حامی ، اسقاط حمل کی حامی مارچ تھی ۔

نئی انتظامیہ کے دور میں چند ہی روز قبل پانچ لاکھ خواتین کی جانب سے تولیدی حقوق کی حمایت میں مظاہرہ کیا گیا تھا۔

اِس تینتالیسویں سالانہ مارچ میں مظاہرین اُنہی سڑکوں سے گزرے۔ اُنھوں نے سنہ 1973کے ’رو اینڈ ویڈ‘ فیصلے کے خلاف نعرے بازی کی، جس ماضی کے امریکی عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں اسقاطِ حمل کے عمل کو جائز قرار دیا گیا تھا۔

کچھ ہی دِنوں کے اندر اندر اِن مظاہروں کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ملک میں متنازع ترین معاملات پر لوگ آواز بلند کر رہے ہیں۔ یہ ثابت کرتے ہوئے کہ حامی اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، جب کہ کانگریس اور انتظامی اقدامات اسقاطِ حمل کے حامی سرگرم کارکنان کی امداد کے لیے نئی امیدوں کا باعث ہیں۔

جب مارچ سپریم کورٹ کی جانب اپنے سالانہ راستے پر گامزن ہوئی تو مظاہرین نے کہا کہ امریکہ کی ایک انتہائی اہم بحث کو تبدیل کرنے کے طریقے موجود ہیں ۔

وکی کریگر کا کہنا تھا کہ ہمیں محبت کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ میرا خیال ہے کہ پہلا حصہ ہے کہ ہمیں یہ ظاہر کرنا چاہیے کہ ہم عورت کی اور بچہ کی پیدائش سے پہلے اور پیدائش کے بعد پرواہ کرتے ہیں ۔

اور ان مظاہروں کے مقابلے میں اسقاط حمل پر دوسرے مطمح نظر کے حامی سپریم کورٹ کے سامنے موجود تھے جو اس بات پر ناخوش تھے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسقاط حمل کے حقوق کو منسوخ کر سکتی ہے ۔

پولی سٹینا کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ اس ملک کا قانون ہے لیکن میں اسے اسقاط حمل کے حقوق کو ختم کرنے کا ایک تسلسل ہےاور اس حوالے سے اس کی آزادی پر ایک مسلسل حملہ ہے ۔

لیکن بہت سے مارچ کرنے والوں کے نزدیک سب سے اچھی خبر ابھی آنا باقی ہے ۔ صدر ٹرمپ توقع ہے کہ اگلے ہفتے سپریم کورٹ کی خالی نشست کے لیے اپنے انتخاب کا اعلان کریں گے۔ سی بی ان نیوز کو ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا تھا ۔

میرا خیال ہے کہ اناجیلی عقائد کے مسیحی میرے انتخاب کو پسند کریں گے اور اس کی بہت مناسب طریقے سے نمائندگی کی جائے گی ۔

اس نامزدگی سے کانگریس میں اور ملک بھر میں اسقاط حمل پر ایک نئی بحث شروع ہو جائے گی۔ اس کے بہت بعد جب یہ مارچ کرنے والے اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG