رسائی کے لنکس

امریکہ: چرس کا استعمال جائز قرار دینے کا مطالبہ


بتایا جاتا ہے کہ امریکہ کی ہر ریاست میں بھنگ کی ممانعت کو ختم کرنے کے بارے میں قانون سازی ہو رہی ہے، جبکہ سال 1969 میں 12 فیصد عوامی حمایت کے مقابلے میں آج 58 فیصد امریکی عوام بھنگ کو شراب کی طرح قانونی حیثیت دینے کے حق میں ہیں

واشنگٹن میں قائم ایک ادارے ’میریوانا پالیسی پراجیکٹ‘ کے مطابق امریکہ بھر میں ہر 48 سیکنڈ میں ’میری وانا‘ کی وجہ سے ایک گرفتاری عمل میں آتی ہے؛ جبکہ دوسرے تمام جرائم کے مقابلے میں بھنگ رکھنے یا بیچنے جیسے جرائم میں زیادہ گرفتاریاں ہوتی ہیں، جن میں سے 87 فیصد صرف بھنگ کی قلیل مقدار برآمد ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امریکہ بھر میں شراب کی طرح بھنگ کو بھی قانونی طور پر جائز قرار دینے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ واشنگٹن میں واقع ’میریوانا پالیسی پراجیکٹ‘ بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے، جو امریکہ بھر میں ریاستی اور ملکی سطح پر اس حوالے سے قوانین بدلنے کے لیے کوشاں ہے۔

مورگن فاکس، ’میریوانا پالیسی پراجیکٹ‘ کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ اِس میں کوئی شک نہیں کے بھنگ منشیات کے زمرے میں آتی ہے، لیکن اسے ایک دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں جیسے شراب کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی گئی ہے ویسے ہی بھنگ کو بھی قانونی طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

اُن کے مطابق، اس ادارے کا مقصد بھنگ کو بھی شراب کی طرح باقاعدہ اور قانونی طور پر جائز بنانا ہے، ’’تاکہ ایسے لوگ جو اسے دوا کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کی زندگیوں کو بچایا جاسکے‘‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’’اگرچہ دوسری ادویات کی طرح اس کے استعمال کے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں۔ لیکن، جب آپ تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو الکوحل بھنگ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ خطرناک ہے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں کہ جب آپ میریوانا کو جائز قرار دینے کی کوششوں پر ہونے والی بحث کی بات کرتے ہیں تو میں اس بارے میں مخالفت میں کیا کہا جاتا ہے اور آپ یا آپ کا ادارہ کیا موقف رکھتا ہے، مورگن نے بتایا کہ یہ منشیات کی ایک قسم ہے۔ ’’لیکن، ہم کہتے ہیں شراب یا الکوحل بھی ایسی ہی ہے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’ہمارا مقصد ہے کہ میریوانا کو Controlled Substances لسٹ سے نکالا جائے، تاکہ ریاستوں کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ اس بارے میں اپنے قوانین بنا سکیں، جیسا کہ ہر ریاست کے الکوحل کے بارے میں اپنے قوانین موجود ہیں‘‘۔

پچیس امریکی ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں بھنگ کے طبعی استعمال کے بارے میں قوانین موجود ہیں جہاں ڈاکٹری نسخے کے بعد قانونی طور پر اسے خریدا اور استعمال کیا جاسکتا ہے؛ جبکہ 4 امریکی ریاستوں میں بھنگ کو تفریحی مقاصد کے لیے بھی جائز قرار دیا جاچکا ہے، جہاں 21 سال سے زائد عمر کے لوگ اسے شراب کی طرح خرید سکتے ہیں‘‘۔

مورگن کے مطابق، واشنگٹن ڈی سی میں سال 2010 میں بھنگ کے قانونی استعمال پر قانون سازی کی گئی تھی، جبکہ سال 2014 میں اس کے شہریوں نے بھنگ کی ملکیت اور گھر میں اسے کاشت کرنے کے متعلق ایک قانون کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اور یہ وجہ ہے کہ شہر میں ہونے والی گرفتاریوں میں کمی آئی، اور اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کے یہ خدشات کہ اس قانون کے باعث جرائم میں اضافہ ہوگا غلط ثابت ہوئے۔

امریکہ کی ہر ریاست میں بھنگ کی ممانعت کو ختم کرنے کے بارے میں قانون سازی ہو رہی ہے، جبکہ سال 1969 میں 12 فیصد عوامی حمایت کے مقابلے میں آج 58 فیصد امریکی عوام بھنگ کو شراب کی طرح قانونی حیثیت دینے کے حق میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG