رسائی کے لنکس

امریکی معاشرے کا ایک بڑاحصہ شادی کو فرسودہ رسم سمجھتا ہے


امریکی معاشرے کا ایک بڑاحصہ شادی کو فرسودہ رسم سمجھتا ہے

امریکی معاشرے کا ایک بڑاحصہ شادی کو فرسودہ رسم سمجھتا ہے

امریکی معاشرے میں ازدواجی رشتوں پر اعتماد روز بہ روز کم ہوتا جارہا ہے اور امریکی شہریوں کی ایک بڑی تعداد اب شادی کو فرسودہ رسم سمجھنے لگی ہے۔ یہ انکشافPEW ریسرچ سینٹر اور ٹائم میگزین کی جانب سے جاری کردہ ایک سروے رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

جمعرات کو جاری کردہ تازہ سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر دس میں سے چار افراد یعنی 39 فیصد امریکی آج کے جدید معاشرے میں شادی کو ضروری خیال نہیں کرتے۔
امریکی معاشرے کا ایک بڑاحصہ شادی کو فرسودہ رسم سمجھتا ہے

امریکی معاشرے کا ایک بڑاحصہ شادی کو فرسودہ رسم سمجھتا ہے

ٹائم میگزین کی جانب سے ایسا ہی ایک سروے 1978ء میں بھی کیا گیا تھا اس وقت شادی کو فرسودہ رسم سمجھنے والے افراد کی تعداد 28فیصد تھی جبکہ حالیہ سروے میں یہ تعداد 39 فیصد ہوگئی ہے جو اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے کہ شادی کو غیر ضروری سمجھنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شادی کرنے والوں کی تعدادبھی مسلسل گھٹ رہی ہے ۔ اب یا تو کالج میں دوران تعلیم یا اچھی آمدنی والے ہی شادی کی طرف مائل ہوتے ہیں ورنہ پورے امریکا میں اب شادی کو غیر ضروری رسم سے تشبیہ دی جارہی ہے۔

تحقیق کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شادی کے رجحان میں کمی آنے کے سبب امریکی معاشرے پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ہر تین میں سے ایک بچہ ماں باپ میں سے کسی ایک کے ساتھ یا اس صورت میں دونوں کے ساتھ رہنے پر آمادہ ہے جبکہ وہ شادی شدہ نہ ہوں۔

تاہم جن افراد نے اس سروے میں حصہ لیا ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی شادی اور خاندان کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔

سروے میں دوہزار سات سو بالغ امریکیوں نے حصہ لیا۔ سروے نتائج میں صرف دواعشاریہ چھ فیصدکمی بیشی یا غلطی کے امکان کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

امریکی محکمہ مردم شماری کے حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی بالغان میں شادی کا تناسب 2008ء میں سب سے کم رہا ۔ اس سال صرف 52فیصد افراد ایسے تھے جنہوں نے 18 سال یا اس سے زیادہ عمر میں شادی کی ۔

XS
SM
MD
LG