رسائی کے لنکس

میری لینڈ کے ساحل پر لاکھوں مچھلیوں کی پراسرار ہلاکت


میری لینڈ کے ساحل پر لاکھوں مچھلیوں کی پراسرار ہلاکت

میری لینڈ کے ساحل پر لاکھوں مچھلیوں کی پراسرار ہلاکت

گذشتہ دنوں امریکی ریاست میری لینڈ کے ساحلی علاقے میں لاکھوں کی تعداد میں مردہ مچھلیاں پائی گئیں۔ ان مردہ مچھلیوں کو پانی کی لہریں ساحل پر پھینک گئی تھیں۔ سردیوں میں مچھلیوں کی ہلاکت خلاف معمول نہیں ہوئی مگر اتنی بڑی تعداد میں ان کی ہلاکت نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا۔

ریاست میری لینڈ کا ساحل بحرہ اوقیانوس سے ملتا ہے۔ یہ علاقہ اپنے شہر بالٹی مور کی وجہ سے، جو ایک اہم امریکی بندرگاہ ہے، دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ اس ساحلی علاقے میں بڑی تعداد میں سمندری حیات بھی پائی جاتی ہے۔

پچھلے ہفتے اس سمندر میں بڑے پیمانے پر مچھلیاں ہلاک ہونا شروع ہوگئیں۔ اور پانی کی لہریں انہیں بہا کر ریاست میری لینڈ میں واقع چیسابیک کے ساحلی علاقے میں پھینک گئیں ۔

میری لینڈ کے ماحولیات کے محکمے نے اس واقعہ کی تحقیقات کیں۔ ادارے کے ایک ماہرجے اپیرسن کا کہنا ہے کہ20 لاکھ کے قریب مچھلیاں ہلاک ہوئی ہیں۔ ان سب کا تعلق سپاٹ فش کی نسل سے تھیں اور وہ کم عمر مچھلیاں تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہلاکت کے اسباب معلوم کرنے کے لیے ہم نے سب سے پہلے یہ دیکھا گیا کہ پانی میں کوئی ایسا کیمیکل یا کوئی اور ایسی غیرمعمولی چیز تو موجود نہیں ہے جو مچھلیوں کے لیے نقصان دہ ہو۔

اپیرسن کہتے ہیں کہ ہمیں ٹیسٹوں سے پانی کے معیار میں کسی کمی یا تبدیلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ۔

وہ کہتے ہیں کہ حاصل کردہ تمام معلومات سے یہی پتا چلتا ہے کہ ان ہلاکتوں کی وجہ پانی کے درجہ حرارت کا معمول سے کہیں زیادہ گرناجانا تھا۔

ایپرسن کہتے ہیں کہ شواہد اس سمت اشارہ کرتے ہیں بڑے پیمانے پر مچھلیوں کی ہلاکت کی وجہ سمندر کے درجہ حرارت میں نمایاں طورپر کمی تھی۔

ان کا کہناتھاکہ دسمبر کے ریکارڈ کے مطابق سمندر کےپانی کا درجہ حرارت گذشتہ 25 برسوں میں سب سے کم تھا۔

ماحولیات کے ماہر ایپرسن کا کہناہے کہ سردیوں میں مچھلیوں کی ہلاکت کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے، مگر جو چیز اسے غیر معمولی بناتی ہے وہ ہے اتنی بڑی تعداد میں مچھلیوں کا یکایک ہلاک ہوجانا۔

XS
SM
MD
LG