رسائی کے لنکس

امریکہ میں بدھ کو سماجی حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے جدوجہد کرنے والے معروف رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی 44 ویں برسی منائی جارہی ہے۔

آنجہانی کنگ جونیئر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں کئی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں کنگ جونیئر سے منسوب حال ہی میں قائم کی جانے والی یادگار پر 'کولیشن آن پولیٹیکل اسیسی نیشن' نامی تنظیم نے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا ہے۔

مظاہرے کا مقصد آنجہانی رہنما کی زندگی اور قتل سے متعلق خفیہ سرکاری دستاویزات کے اجرا کے لیے امریکی حکومت پر دبائو ڈالنا ہے۔

یاد رہے کہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر 4 اپریل 1968ء کی شب امریکی ریاست ٹینیسے کے شہر میمفس میں اس وقت پراسرار انداز میں لگنے والی گولی سے ہلاک ہوگئے تھے جب وہ اپنے ہوٹل کی بالکونی میں کھڑے تھے۔

قتل کے وقت کنگ جونیئر کی عمر محض 39 برس تھی اور وہ مزدوروں کے حقوق کے لیے نکالے جانے والے ایک جلوس کی قیادت کے لیے میمفس پہنچے تھے۔

کنگ کی قتل گاہ میمفس کی انتظامیہ کی جانب سے آنجہانی رہنما کی برسی کے موقع پر شہر کی ایک سڑک کو ان سے منسوب کیا جارہا ہے۔

کنگ جونیئر 1950ء اور 60ء کی دہائیوں میں چلنے والی عدم تشدد کی اس تحریک کے روحِ رواں تھے جس کا مقصد امریکی معاشرے میں سیاہ فام افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو ختم کرکے انہیں یکساں حقوق دلانا تھا۔

تمام امریکیوں کے لیے مساوی حقوق کے حصول کی جدوجہد کرنے پر انہیں 1964ء میں امن کے 'نوبیل' انعام سے نوازا گیا۔ بعد ازاں اسی برس امریکہ کے اس وقت کے صدر لنڈن جانسن نے شہری حقوق کے تاریخی قانون پر دستخط کیے تھے جس کے تحت عوامی مقامات پر نسلی امتیاز غیر قانونی قرار پایا۔

مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی ایک وجہِ شہرت 1963ء میں 'میرا ایک خواب ہے (آئی ہیو اے ڈریم)' کے عنوان سے کی جانے والی ان کی وہ تاریخی تقریر بھی ہے جس نے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کو نسلی امتیاز کے خلا ف صف آرا کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG