رسائی کے لنکس

مشال کی بہنوں کو تعلیم کے لیے اسلام آباد منتقل کرنے کی استدعا


مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام پر قتل کیے جانے والے طالب علم مشال خان کے والد نے کہا کہ ہے اُن کے آبائی علاقے میں حالات ایسے نہیں کہ اُن بیٹیاں محفوظ رہتے ہوئے تعلیم جاری رکھ سکیں۔

اُنھوں نے اپنے وکیل کے ذریعے سپریم کورٹ سے بھی استدعا کی کہ مشال کی بہنوں کو حصول تعلیم کے لیے اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے احکامات دیئے جائیں۔

مشال خان کے قتل کا چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا تھا اور اس معاملے کی سماعت بدھ کو اسلام آباد میں ہوئی۔

مشال خان کے والد اقبال خان کے وکیل خواجہ اظہر رشید نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اقبال خان کو اپنی بیٹیوں کی سلامتی سے متعلق تشویش ہے۔

’’اقبال خان جو مشال خان کے والد ہیں اُن کا خدشہ ہے کہ ملزمان بہت با اثر ہیں اور اس کی وجہ سے اُن کی جو بیٹیاں ہیں وہ اپنی یونیورسٹی، کالج یا اسکول نہیں جا سکتیں۔۔۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تجویز کریں، ہے تو یہ ریاست کی ذمہ داری، لیکن حکومت کو تجویز کر دیا جائے گا کہ اُن کو اسلام آباد منتقل کرے اُنھیں یہاں تحفظ میں تعلیم دلوائی جائے۔‘‘

مشال کے خاندان کا تعلق ضلع صوابی کے علاقے زیدا سے ہے۔

اقبال خان کے وکیل نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ مقدمے کو مردان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے اسلام آباد منتقل کیا جائے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مشال خان کا قتل فوری ردعمل نہیں تھا بلکہ اُن کے بارے میں ایک مہم چلائی گئی جس کے بارے میں مقامی پولیس کو علم تھا لیکن اُس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس نے عدالت میں پیش ہونے والے صوبہ خیبرپختونخواہ کے ایڈووکیٹ جنرل وقار بلور سے پوچھا کہ کیا مشال کے قتل کے مقدمے میں یونیورسٹی انتظامیہ کے کردار کا تعین کر لیا گیا، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس بارے میں تفصیل حتمی چالان میں پیش کی جائے گی۔

خیبرپختونخواہ کے ایڈووکیٹ جنرل وقار بلور نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ مشال خان کے قتل کے مقدمے میں اب تک جن 57 افراد کی نشاندہی کی گئی ان میں سے 53 کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار کیے گئے افراد میں مرکزی ملزم عمران بھی شامل ہے جس کے بارے میں سپریم کورٹ کے بینچ کو بتایا گیا کہ اُس نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

پولیس کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ عمران نے مشال خان پر گولیاں چلائی تھیں۔

صوبائی ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس مقدمے کا حتمی چلان آئندہ دو ہفتوں میں ذیلی عدالت یعنی ’ٹرائل کورٹ‘ میں پیش کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جرنلزم کے طالب علم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام پر مشتعل افراد نے 13 اپریل کو یونیورسٹی ہی میں بدترین تشدد کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG