رسائی کے لنکس

ڈرون حملے کے بعد افغان طالبان پر پاکستان کا اثر کم ہو سکتا ہے: مسعود خان


مسعود خان نے کہا کہ اس واقعہ کی وجہ سے نا صرف افغانستان میں امن و مصالحت کا عمل متاثر ہو گا بلکہ اس کی وجہ سے پاکستان اور طالبان کے درمیان اعتماد میں کمی آئے گی۔

پاکستان میں سرکاری سر پرستی میں کام کرنے والے ادارے ’انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز‘ کے ڈائریکٹر جنرل مسعود خان نے کہا ہے کہ طالبان رہنما ملا منصور اختر کے ڈرون حملے میں ’مارے‘ جانے کے بعد پاکستان کے طالبان پر اثرورسوخ پر اثر پڑے گا۔

وائس آف امریکہ سے ایک خصوصی گفتگو میں مسعود خان نے کہا کہ اس واقعہ کی وجہ سے ناصرف افغانستان میں امن و مصالحت کا عمل متاثر ہو گا بلکہ اس کی وجہ سے پاکستان اور طالبان کے درمیان اعتماد میں کمی آئے گی۔

’’طالبان کے ساتھ جو ہمارا اثر و رسوخ ہے اس کی وجہ سے کم ہو گا ۔۔۔ اگرچہ ہم نے بہت زور دے کر انہیں کہا کہ وہ مذاکرات کے عمل میں شریک ہو جائیں تو انہوں نے اسے مسترد کر دیا تھا بلکہ اس کے بعد افغانستان میں بہت سے حملے ہوئے تھے دہشت گردی کے بہت سے واقعات ہوئے ۔۔۔۔یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو جو ایک اعتماد تھا کہ کسی حد تک وہ طالبان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اس میں کچھ کمی آ جائے گی‘‘۔

پاکستان نے بلوچستان میں ڈرون حملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے اس کارروائی کو اپنی خود مختاری اور سرحدی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، تاہم امریکہ کاموقف رہا ہے کہ عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے یہ حملے ضروری ہیں۔

مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں ایک گھر میں موجود القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے امریکی اسپیشیل فورسز کے آپریشن میں مارے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئے تھے۔

مسعود خان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس حالیہ واقعہ سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کسی بحران کا شکار ہوں گے۔

’’شکوہ شکایت ضرور ہو گی اور پاکستان نے اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے امریکہ بعض اوقات جواب دیتا ہے اور بعض اوقات نہیں دیتا ہے لیکن میں نہیں دیکھتا کہ (تعلقات) کسی شدید بحران اور تناؤ کا شکار ہوں گے 2011 کے حالات مجھے پیدا ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے ہیں۔‘‘

افغان طالبان کے رہنما کو ڈرون سے ایسے وقت نشانہ بنایا گیا جب افغانستان میں امن عمل کے لیے چار ملکی گروپ کوششیں کر رہا تھا اور گزشتہ ہفتے ہی اس گروپ میں شامل افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین کے نمائندوں کا اجلاس ہوا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی نے پیر کو اسلام آباد میں تعینات امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل کو طلب کر ڈورن حملے پر اُنھیں پاکستانی حکومت کی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔

وزارت خارجہ کے بیان میں بھی یہ کہا گیا تھا کہ اس طرح کے حملے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن کے لیے چار ملکی گروپ کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG