رسائی کے لنکس

بین الاقوامی خبررساں ایجنسی "رائٹرز" کے مطابق گزشتہ جون میں ان شیعہ فوجیوں کو تکریت کے نواح میں واقع سابق امریکی فوجی اڈے "سپایکر بیس" پر حملے کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

عراق کے شہر تکریت میں لگ بھگ ایک درجن اجتماعی قبروں کا انکشاف ہوا ہے ماہرین نے یہاں سے لاشوں کی باقیات نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق شمالی شہر میں گزشتہ سال جون میں شدت پسند گروپ داعش نے قبضے کے بعد یہ بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کی اور ان اجتماعی قبروں میں مبینہ طور پر 1700 عراقی فوجیوں کو دفن کیا گیا۔

بین الاقوامی خبررساں ایجنسی "رائٹرز" کے مطابق گزشتہ جون میں ان شیعہ فوجیوں کو تکریت کے نواح میں واقع سابق امریکی فوجی اڈے "سپایکر بیس" پر حملے کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

داعش کے شدت پسند شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ دیگر مذہبی اقلیتوں اور اپنی نظریات کے مخالف سنیوں کو قتل کرتے آرہے ہیں۔

تکریت سابق صدر صدام حسین کا آبائی شہر ہے اور گزشتہ ہفتے ہی عراقی فورسز نے داعش کے جنگجوؤں کو پسپا کر کے یہاں کا قبضہ بحال کروایا تھا۔

محکمہ صحت کے ایک عہدیدار خالد الاتبی ماہرین کی ٹیم کے ساتھ اجتماعی قبروں سے باقیات نکالنے کا کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہاں ایک قبر سے بیس لاشیں نکالیں اور "شواہد سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ لاشیں سپایکر میں ہونے والے قتل عام سے تعلق رکھتی ہیں۔"

XS
SM
MD
LG