رسائی کے لنکس

قتل عام، فائرنگ کے واقعات 'وبا' کی طرح پھیلتے ہیں: رپورٹ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملتے جلتے واقعات رونما ہونے کا خطرہ عارضی ہوتا ہے اور بظاہر دو ہفتوں کے اندر اندر ختم ہو جاتا ہے۔

امریکی سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق قتل عام اور سکولوں میں فائرنگ کے واقعات کی میڈیا میں آنے والی خبروں کے باعث ان سے ملتے جلتے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔

ایک سائنسی جرنل ’’پلوس ون‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات ’’وبا کی طرح‘‘ پھیلتے ہیں اور اس طرح کے تشدد کے 20 سے 30 فیصد واقعات بظاہر اس وبا کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وبائی عرصہ تقریباً تیرہ دن تک جاری رہتا ہے۔

اس نمونے کے مطابق تین قتل عام کے بعد مزید ایک واقعہ رونما ہوتا ہے اور سکولوں میں فائرنگ کے چار یا پانچ واقعات کے بعد، جن میں اموات نہ بھی ہوئی ہوں، ایک اور ایسا واقعہ پیش آتا ہے۔

مگر اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملتے جلتے واقعات رونما ہونے کا خطرہ عارضی ہوتا ہے اور بظاہر دو ہفتوں کے اندر اندر ختم ہو جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ واقعات کے پھیلاؤ کا انحصار اس کے محل وقوع پر نہیں ہوتا جس سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ زیادہ افراد کو نشانہ بنانے والے فائرنگ کے واقعات کے پھیلاؤ میں میڈیا کوریج کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق امریکہ میں اوسطاً ہر دو ہفتے کے بعد فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، جبکہ سکولوں میں فائرنگ کے واقعات ہر ماہ میں ایک مرتبہ ہوتے ہیں۔

محققین کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جن ریاستوں میں زیادہ لوگوں کی ملکیت میں اسلحہ ہے، ان میں قتل عام اور سکولوں میں فائرنگ کے واقعات ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے اور جن ریاستوں میں آتشیں ہتھیاروں کے قوانین سخت ہیں وہاں فائرنگ کے واقعات کم دیکھے گئے ہیں۔

یہ رپورٹ ریاست جنوبی کیرولائنا کے شہر چارلسٹن میں سیاہ فام آبادی کے ایک چرچ میں فائرنگ کے واقعے کے بعد جاری کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق 21 سالہ ڈائلن روف نے 17 جون کو نو سیاہ فام امریکیوں کو قتل کر دیا تھا، جن میں ریاست کے سینئیر ریورینڈ کلیمینٹا پنکنی بھی شامل تھے۔

اس سے قبل ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر خود کشی میں استعمال ہونے والے طریقے کی تشہیر کی جائے تو نوجوانوں میں خود کشی کی وبا پھیل سکتی ہے۔

اس تحقیق میں فائرنگ کے محرکات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔

XS
SM
MD
LG