رسائی کے لنکس

امریکہ شام میں ’سیف زونز‘ کے معاملے کا جائزہ لے گا: جِم میٹس


جب اُن سے اِس معاملے کے بارے میں پوچھا گیا، تو پیر کے روز میٹس نے کہا کہ ’’تفصیل ہی میں کئی الجھنیں چھپی ہوتی ہیں‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم اِن تجاویز پر غور کریں گے، اور دیکھیں گے آیا یہ قابلِ عمل ہے‘‘

امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے کہا ہے کہ امریکہ شام میں کشیدگی کم کرنے کے لیے زون قائم کرنے کے روسی منصوبے کا گہرائی سے جائزہ لے گا۔


جب اُن سے اس معاملے کے بارے میں پوچھا گیا، تو پیر کے روز میٹس نے کہا کہ ’’تفصیل ہی میں کئی الجھنیں چھپی ہوتی ہیں‘‘۔


اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم اِن تجاویز پر غور کریں گے، اور دیکھیں گے آیا یہ قابلِ عمل ہے‘‘۔


روس، ترکی اور ایران نے گذشتہ ہفتے روس کی جانب سے تجویز کردہ سمجھوتے سے اتفاق کیا تھا جس کی رو سے شام میں کشیدگی کو کم کرنے کے خودساختہ زون قائم کیے جائیں گے، تاکہ چھ برس کے تنازع کا خاتمہ لایا جاسکے۔


قزاقستان کے دارالحکومت، آستانہ میں امن بات چیت کے تازہ ترین دور کے اختتام پر، شام میں جنگ بندی کی ضمانت دینے والے تین ملکوں کے نمائندوں نے ایک یاد داشت پر دستخط کیے ہیں۔


شام میں تجویز کردہ اِن علاقوں میں لڑائی میں کمی لانے کے اقدام پر زور دیا گیا ہے، جہاں کے اہم علاقے کا کنٹرول داعش کے شدت پسندوں سے تعلق نہ رکھنے والے باغیوں کے پاس ہے۔


اس پر جمعے کے نصف شب سے عمل درآمد کا آغاز کیا گیا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ اِن زونز میں امریکی قیادت والے اتحاد کے طیاروں کے گزرنے پر بندش ہوگی۔


بدھ کے روز جب واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات ہوگی، تو وہ دیگر کلیدی امور کے علاوہ شام کی صورت حال پر بات چیت کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG